پشاور: خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں کرک میں مسلح ملزمان کی فائرنگ سے ایس ایچ او داؤد خان اور ایک گنر فرہاد شہید ہوگئے، جبکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں گزشتہ کئی روز کے دوران پولیس اور دیگر سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
دوسری جانب صوبے میں امن و امان کی صورتحال بگڑ رہی ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنی ذمہ داریاں ترک کرکے عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اسلام آباد پر چڑھائی کے لیے نکل پڑے ہیں، جس کے باعث صوبائی حکومت کی ترجیحات پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔
کرک کے نیو کڑپہ کے مقام پر بانڈہ داؤد شاہ پولیس پر مسلح ملزمان نے فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایس ایچ او داؤد خان اور گنر فرہاد شہید ہوگئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او کرک عمران خان مزید نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے، جبکہ پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔
ادھر گزشتہ روز ضلع کوہاٹ میں پولیس چیک پوسٹ پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 4 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں : معروف بھارتی اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں انتقال کرگئے
پولیس کے مطابق حملہ آور شادی پور چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کے بعد اہلکاروں کی جوابی فائرنگ پر فرار ہوگئے۔ زخمی اہلکاروں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی۔
صوبے میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات کے تناظر میں حکومت کی ترجیحات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو موجودہ صورتحال میں صوبے کے امن و امان اور شہریوں کے تحفظ پر توجہ دینی چاہیے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں 4 انکم ٹیکس اہلکار شہید
اس سے ایک روز قبل ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 انکم ٹیکس اہلکار شہید ہوگئے تھے۔ پولیس کے مطابق واقعہ قریشی موڑ ابھایہ پل کے قریب تھانہ گومل یونیورسٹی کی حدود میں پیش آیا۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹریفک پولیس موبائل پر حملہ
ڈیرہ اسماعیل خان میں تھانہ ڈیرہ ٹاؤن کی حدود میں مفتی محمود چوک کے قریب ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں کانسٹیبل ڈرائیور محمد حبیب شہید جبکہ ہیڈ کانسٹیبل سبحان خان شدید زخمی ہوگئے۔یہ واقعہ گزشتہ 10 روز کے دوران صوبے میں ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر دوسرا حملہ بتایا گیا ہے۔
ٹانک میں ٹریفک پولیس موبائل پر فائرنگ
28 ستمبر 2026 کو ضلع ٹانک کے علاقے وزیر آباد میں ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 2 راہ گیر زخمی ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : مذاکرات میں شریک پی ٹی آئی وفد کے پاس اختیارات نہیں تھے، طارق فضل چوہدری
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ٹانک کے ترجمان کے مطابق شہید اہلکاروں میں کانسٹیبل سلیم شاہ، کانسٹیبل گل امین اور ڈرائیور فیاض الدین شامل تھے۔
تھانہ سٹی پولیس کے مطابق فائرنگ کے بعد موٹر سائیکل سوار حملہ آور فرار ہوتے ہوئے پولیس اہلکاروں کا اسلحہ بھی ساتھ لے گئے۔
لکی مروت میں 3 افراد شہید
27 ستمبر کو ضلع لکی مروت میں بھی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 3 افراد شہید اور 3 زخمی ہوگئے تھے۔
اس سے ایک روز قبل 26 ستمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 12 افراد شہید جبکہ 35 زخمی ہوئے تھے۔
کوہاٹ میں نماز جمعہ کے دوران حملہ
18 ستمبر کو کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 23 افراد شہید جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
خیبر پختونخوا، بالخصوص جنوبی اضلاع، ایک عرصے سے بدامنی، ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کے واقعات کی زد میں ہیں۔
بنوں، لکی مروت، شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت مختلف علاقوں میں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور: ایل آر ایچ سے اغوا ہونے والا نومولود بچہ بازیاب
مسلسل پیش آنے والے ان واقعات کے باعث صوبے میں امن و امان اور شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے حکومت کی ترجیحات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں صوبائی حکومت کی بنیادی توجہ عوام کی جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کی بہتری پر ہونی چاہیے۔
آئینی طور پر شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست اور صوبائی انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بڑھتے ہوئے حملوں نے عوام میں عدم تحفظ اور بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔





