اسلام آباد: تحریک انصاف کی جانب سے ملک بھر پر مسلط کیے گئے اس انتشار پسند سیاسی احتجاج نے عام عوام، مریضوں اور تاجر برادری کی زندگی کو جہنم بنا کر رکھ دیا ہے۔
مارچ کے طے شدہ روٹس اور گرد و نواح کے علاقوں میں تحریک انصاف کے بدنظم کارکنان کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کی وجہ سے گھنٹوں پر محیط بدترین ٹریفک جام دیکھنے میں آیا۔
اس سنگین اور تشویشناک صورتحال میں سب سے زیادہ دل دہلا دینے والے مناظر وہ تھے جہاں ایمرجنسی میں ہسپتال جانے والی ایمبولینسیں گھنٹوں ٹریفک میں پھنسی رہیں اور ان میں موجود شدید بیمار اور زخمی مریض راستے کے لیے تڑپتے رہے۔
انسانیت سے عاری اس سیاسی تماشے کے باعث شہریوں کو جو شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑا، اس نے تحریک انصاف کا بے حس اور ظالمانہ چہرہ پوری قوم کے سامنے ننگا کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سہیل آفریدی حکومت کی نااہلی کا بوجھ عوام اٹھا رہے ہیں، دہشتگردی میں جوان قربان ہورہے ہیں، بلال اظہر کیانی
دوسری طرف اس انتشار کے باعث ملک کے اہم تجارتی مراکز اور منڈیاں مکمل طور پر بند کرنی پڑیں، جس کی وجہ سے تاجر برادری کو اربوں روپے کے ناقابلِ تلافی مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تاجر رہنماؤں نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی اس بلاجواز سیاسی گندہ کاری نے ان کے روزگار کا بھٹہ بٹھا دیا ہے اور دیہاڑی دار طبقے کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھین لیا ہے۔
تاجروں اور عام شہریوں کا کہنا ہے کہ اپنے سیاسی مفادات کی خاطر ملک کی معاشی شاہراہوں کو بلاک کرنا اور مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا کوئی سیاسی خدمت نہیں بلکہ کھلم کھلا غنڈہ گردی اور دہشت ہے۔
عام عوام میں اس وقت تحریک انصاف کے اس ظالمانہ قدم کے خلاف شدید غم و غصہ اور غضب کی لہر پائی جا رہی ہے اور لوگ اس بے مقصد مارچ کو اپنے روزمرہ کے سکون پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : دہشتگردی سے لہولہان خیبرپختونخوا، سہیل آفریدی کی لانگ مارچ سیاست زیرِ بحث
لانگ مارچ اور احتجاج کے باعث سڑکیں بند ہونے سے ایمبولینسوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی۔ مریضوں کو ہسپتال لے جانے والی ایمبولینسیں راستوں میں پھنس گئیں، جبکہ انہیں گزرنے دینے کے لیے لوگ احتجاج کرنے والوں سے منت سماجت کرتے رہے۔
مریضوں کے اہل خانہ اور دیگر شہریوں کی جانب سے بار بار راستہ دینے کی درخواست کی گئی، تاہم احتجاج کے باعث بند راستوں سے ایمبولینسوں کو گزرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ایمبولینس کسی سیاسی سرگرمی کا حصہ نہیں ہوتی، اس میں موجود مریض کو بروقت طبی امداد اور ہسپتال تک رسائی درکار ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سہیل آفریدی کیلئے بڑا جھٹکا، سرکاری وسائل کا معاملہ پشاور ہائیکورٹ پہنچ گیا
ایسے میں راستے بند ہونے کے باعث ایمبولینس کا رک جانا مریض اور اس کے اہل خانہ کے لیے انتہائی مشکل صورتحال پیدا کر دیتا ہے۔
لانگ مارچ کے باعث سڑکوں کی بندش سے صرف عام ٹریفک ہی متاثر نہیں ہوئی بلکہ ہسپتال جانے والے مریض اور انہیں لے جانے والی ایمبولینسیں بھی راستوں میں پھنس گئیں۔
احتجاج کے دوران ایمبولینسوں کو راستہ نہ ملنے کے مناظر نے ایک اہم سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے کہ سیاسی احتجاج کے دوران ہنگامی طبی امداد کے لیے آنے جانے والی ایمبولینسوں کو راستہ کیوں نہیں مل سکا؟
شہریوں کی جانب سے ایمبولینسوں کو گزرنے دینے کے لیے منت سماجت کے مناظر نے لانگ مارچ کے دوران راستوں کی بندش سے پیدا ہونے والی مشکلات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔





