حکمران اتحاد میں شامل بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان آئینی و قانونی امور پر طویل عرصے سے جاری ڈیڈ لاک بالآخر ختم ہو گیا ہے۔
دونوں جماعتوں کے درمیان طے پانے والے اہم سیاسی سمجھوتے کے تحت پیپلز پارٹی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قانون سازی کے تمام مراحل میں حکومت کی کامل حمایت کرے گی۔
ذرائع کے مطابق اس تعاون کے بدلے میں پیپلز پارٹی کو پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کی چیئرمین شپ دی جائے گی جس کی تشکیل جلد عمل میں لائی جا رہی ہے۔ اس کمیٹی میں پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ان کی عددی طاقت اور نشستوں کے تناسب سے یکساں نمائندگی دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : تیل سپلائی کا بحران عالمی کشیدگی کا نتیجہ ہے، وزیر پیٹرولیم
سیاسی اتحاد کے اس بریک تھرو کے بعد دونوں جماعتوں نے قانون سازی کے وسیع تر ایجنڈے پر اتفاق کر لیا ہےجس کے تحت عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی بنیادی شرائط سے مشروط بلز سمیت اہم قومی اہمیت کے حامل تقریباً 30 مسودہ قانون (بلز) کو دونوں ایوانوں سے فوری منظور کروانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔





