سہیل آفریدی کیلئے بڑا جھٹکا، سرکاری وسائل کا معاملہ پشاور ہائیکورٹ پہنچ گیا

پشاور: خیبرپختونخوا میں سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال کا معاملہ عدالت پہنچ گیا۔ جلسوں، جلوسوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت پشاور ہائی کورٹ میں ہوئی۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل استعمال کر رہے ہیں۔

وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ نے لکی مروت لانگ مارچ کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کیا۔

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نومبر 2025 میں اپنے فیصلے کے ذریعے سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال پر پابندی عائد کرچکی ہے۔

عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا، جبکہ کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں : صوبے میں بدامنی اور کرپشن، سہیل آفریدی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہے، محمد علی شاہ باچا

یاد رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے ستمبر میں پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ سے متعلق واضح ہدایات جاری کی تھیں، جن کے تحت صوبائی حکومتوں اور وزرائے اعلیٰ کو پابند کیا گیا تھا۔

کسی بھی مارچ، ریلی یا احتجاج کے لیے سرکاری فنڈز، سرکاری اہلکار، گاڑیاں، مشینری یا دیگر حکومتی وسائل براہِ راست یا بالواسطہ استعمال نہ کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے کیسز میں مسلسل اضافہ، مزید 142 افراد متاثر

تاہم 4 اکتوبر کو پی ٹی آئی کا لانگ مارچ شروع ہونے کے بعد سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال کا معاملہ ایک بار پھر سامنے آیا۔ اسی دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے لکی مروت پہنچے۔

وزیراعلیٰ کے ہیلی کاپٹر کی آمد اور لینڈنگ کی ویڈیوز بھی سامنے آئیں، جن میں وزیراعلیٰ کے استقبال کے لیے کارکنوں کو موجود دیکھا گیا۔

اب سرکاری وسائل کے استعمال کا معاملہ پشاور ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے اور عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے اس حوالے سے جواب طلب کرلیا ہے۔

Scroll to Top