برسوں کی بدانتظامی کے بعد صوبے میں بڑی تبدیلی، عوام کا جشن، جگہ جگہ مٹھائیاں تقسیم

خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور سہیل آفریدی کے اقتدار کے خاتمے پر صوبے بھر کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور شہریوں نے گہرے سکھ کا سانس لیتے ہوئے تمام بڑے شہروں میں مٹھائیاں تقسیم کرنا شروع کر دی ہیں۔

صوبہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی نااہل حکومت کے باضابطہ خاتمے اور سہیل آفریدی کے اقتدار سے محروم ہونے کے ساتھ ہی صوبے بھر کے طول و عرض میں عوام میں خوشی کی زبردست لہر دوڑ گئی ہے، عوام کی جانب سے ایک دوسرے میں مٹھائیاں تقسیم کی جا رہی ہیں۔

طویل عرصے سے اس کرپٹ حکومت اور اس کے کار پردازوں کی غیر منصفانہ پالیسیوں کی وجہ سے عوام الناس بنیادی سہولتوں تک سے محروم چلی آ رہی تھی جبکہ صوبے میں ترقی کا پہیہ مکمل طور پر جام ہو چکا تھا۔

جیسے ہی یہ اہم خبر عام ہوئی کہ اب سہیل آفریدی مزید وزیراعلیٰ یا اقتدار کے منصب پر فائز نہیں رہے، تو شہریوں نے سکھ کا سانس لیا اور بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔

صوبے کے مختلف شہروں میں عوام کی جانب سے خوشی کا کھل کر اظہار کیا گیا اور مٹھائیاں تقسیم کرنے کے مناظر بھی دیکھنے میں آئے، جو اس بات کا غماز ہیں کہ عوام اس بدترین نظام سے کس قدر عاجز آ چکے تھے۔

ترقیاتی فنڈز کا زیاں اور سیاسی انتشار

عوام کا اپنے ردعمل میں کہنا ہے کہ اس نااہل ٹولے نے اپنے دورِ اقتدار میں عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دینے کے بجائے تمام تر ترقیاتی فنڈز کو اپنے ذاتی مفادات اور سیاسی انتشار کو ہوا دینے کے لیے بے دریغ استعمال کیا۔ فنڈز کی اس غلط تقسیم اور لوٹ مار نے صوبے کے انفراسٹرکچر کو تباہ کر کے رکھ دیا۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا کے عوام نے فیصلہ کرلیا، مزید فتنہ الخوارج کا ساتھ نہیں دیں گے، گورنر

عوام نے اس بات پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا کہ اب اس مافیا کی اجارہ داری ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہے جنہوں نے صوبے کے وسائل کو ذاتی تجوریاں بھرنے اور انتشار پھیلانے کے سوا کسی اور کام میں استعمال نہیں کیا۔

سیاسی پس منظر اور زمینی حقائق

خیبرپختونخوا کا یہ سیاسی منظرنامہ اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ جب بھی کوئی حکومت عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر صرف ذاتی اور گروہی سیاست کو ترجیح دیتی ہے، تو اس کا انجام ایسے ہی بکھرنے کی صورت میں نکلتا ہے۔

اقتدار کے حصول کے لیے دھرنوں اور انتشار کی سیاست کرنے والے عناصر جب کارکردگی دکھانے میں ناکام رہتے ہیں، تو اقتدار سے محرومی پر عوام ان کے لیے کوئی ہمدردی نہیں رکھتے بلکہ سکھ کا سانس لیتے ہیں۔

یہ صورتحال تمام سیاسی قوتوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ عوامی خدمت اور گڈ گورننس کے بغیر طویل عرصے تک اقتدار پر قابض رہنا ناممکن ہے، اور احتساب کا کٹہرا ہر طاقتور کو ایک دن ضرور اپنے حصار میں لیتا ہے۔

Scroll to Top