خیبر پختونخوا کی سیاست میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں شفیع جان بھی اچانک منظرنامے سے غائب ہو گئے ہیں۔
برسوں صوبائی اقتدار کے مزے لوٹنے والے رہنما شفیع جان کے سر سے جیسے ہی اقتدار کا ہما اڑا، انہوں نے قانون کے سامنا کرنے کے بجائے روپوشی اختیار کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔
پارٹی کے دیگر سینئر رہنماؤں کی طرح شفیع جان کو بھی معلوم ہے کہ ان کے خلاف آئینی اور قانونی کارروائی کا وقت قریب آ پہنچا ہے اور ان سے ماضی کے فیصلوں کا حساب لیا جائے گا۔
اس کارروائی کو روکنے اور عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے شفیع جان نے بھی خود ساختہ اغواء کا سہار لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : وفاق نے خیبرپختونخوا سے تعینات 15 سینئر افسران کی خدمات واپس لے لیں
روپوش ہونے سے قبل علاقے میں مبینہ فائرنگ اور گاڑی کو سڑک کنارے لاوارث چھوڑنے کے واقعات دکھائے گئے تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ وہ کسی گہری سازش یا حملے کا شکار ہوئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ان کے حامیوں کی جانب سے “نامعلوم افراد” کے ذریعے اغوا کیے جانے کی خبریں گھڑی جا رہی ہیں، جبکہ اصلیت یہ ہے کہ شفیع جان خود ہی قانونی اداروں سے چھپتے پھر رہے ہیں۔ یہ تمام ہتھکنڈے صرف اور صرف قانونی چارہ جوئی سے فرار حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔





