خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی سابق صوبائی حکمران اور سینئر رہنما علی امین گنڈا پور اچانک منظرِ عام سے روپوش ہو چکے ہیں۔
کئی سالوں تک صوبے کی ڈور سنبھالنے والے اور روزانہ میڈیا پر بڑے بڑے دعوے کرنے والے علی امین گنڈا پور کے سر سے جیسے ہی اقتدار کا سایہ اٹھا، وہ اپنے خلاف ہونے والی ممکنہ قانونی کارروائیوں کے خوف سے روپوش ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق علی امین گنڈا پور اور ان کے ساتھی اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ ان کے خلاف کرپشن اور بدعنوانی کے متعدد ثبوت موجود ہیں، اور اب انہیں اپنے ہر ایک جرم کا حساب دینا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا: اقتدار گیا تو شفیع جان بھی غائب، مبینہ روپوشی پر سوالات کی بوچھاڑ
اس احتساب اور قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے انہوں نے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت روپوشی اور خود ساختہ اغواء کا ڈرامہ رچایا ہے۔
سوشل میڈیا اور پارٹی حلقوں میں یہ افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ علی امین گنڈا پور کو کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود ہی گرفتاری سے بچنے کے لیے محفوظ پناہ گاہوں میں جا چھپے ہیں۔
روپوش ہونے سے قبل اپنے زیرِ استعمال گاڑیوں کو سڑکوں پر لاوارث چھوڑنے جیسے ڈرامائی مناظر تیار کیے گئے تاکہ عوام اور میڈیا کی ہمدردیاں سمیٹی جا سکیں اور قانونی اداروں کی پیشرفت کو متاثر کیا جا سکے۔





