خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کا اقتدار جیسے ہی اپنے منطقی انجام کو پہنچا، پارٹی رہنما شیر علی ارباب بھی اچانک منظرِ عام سے غائب ہو گئے ہیں۔
کل تک میڈیا میں بیانات دینے والے شیر علی ارباب کا اچانک غائب ہونا محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
شیر علی ارباب کو بخوبی اندازہ ہے کہ ماضی میں کی جانے والی نااہلیوں اور الزامات پر ان کا احتساب ہونا طے ہے اور قانون کی گرفت سے بچنا ممکن نہیں ہو گا۔
اسی قانونی پیشرفت اور گرفتاری کے خطرے سے بچنے کے لیے انہوں نے خود ساختہ اغواء اور روپوشی کا طریقہ اختیار کیا ہے۔
ان کے حامی سوشل میڈیا پر یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ شیر علی ارباب کو کسی نے زبردستی اٹھا لیا ہے، لیکن سچی حقیقت یہ ہے کہ وہ خود ہی محفوظ جگہ پر جا چھپے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : طاقت کے نشے میں اندھے حکمرانوں کا عبرتناک انجام، تیمور سلیم جھگڑا تاریکی کے سائے میں غائب
روپوش ہونے سے قبل گاڑی لاوارث چھوڑنے جیسے واقعات اسی ڈرامے کی کڑی ہیں جس کا مقصد ہمدردی سمیٹنا اور قانونی اداروں کو بدنام کرنا ہے۔
جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف کی حکومت کا سورج غروب ہوتے ہی تیمور سلیم جھگڑا بھی یکایک منظرِ عام سے روپوش ہو گئے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں برسوں اہم صوبائی قلمدان سنبھالنے والے تیمور سلیم جھگڑا، جن کا چہرہ روزانہ میڈیا پر دکھائی دیتا تھا، اب اچانک غائب ہو چکے ہیں۔
انہیں اس بات کی پوری آگاہی ہے کہ ان کے دورِ حکومت کے کارنامے اور بے قاعدگیاں اب ان کے سامنے آنے والی ہیں اور انہیں قانون کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں : عرفان سلیم بھی منظرِ عام سے غائب، خود ساختہ روپوشی اور اغواء کا کھیل بے نقاب
قانون کی گرفت اور سزا کے ڈر سے بچنے کے لیے تیمور سلیم جھگڑا نے خود ساختہ روپوشی کا ڈرامہ تیار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی حامیوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ تیمور سلیم جھگڑا کو “نامعلوم افراد” نے اغوا کر لیا ہے، جبکہ سچائی یہ ہے کہ وہ کسی محفوظ پناہ گاہ میں جا چھپے ہیں۔
روپوشی سے قبل مبینہ طور پر لاوارث گاڑیاں چھوڑنے اور فائرنگ کا فرضی تاثر پیدا کر کے ہمدردیاں سمیٹنے اور قانونی عمل میں رکاوٹیں ڈالنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔





