کامران علی شاہ
پشاور: 9 مئی کو ریڈیو پاکستان کی تاریخی عمارت پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث بلوائیوں اور ان کے سیاسی سرپرستوں کے خلاف قانون کا گھیرا تنگ ہو گیا ہے۔
پولیس نے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری (PFSA) لاہور کی فرانزک فوٹیج اور نادرا اسلام آباد کی حتمی شناختی رپورٹس کی روشنی میں ناقابلِ تردید شواہد کی بنیاد پر سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے 5 اہم رہنماؤں کو باقاعدہ چالان میں نامزد کر کے رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی ہے۔
چالان میں سہیل آفریدی کے علاوہ سابق صوبائی وزراء تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش، عرفان سلیم اور عامر چمکنی کو نامزد کیا گیا ہے۔ تاہم جج کی رخصت کے باعث کیس کی مزید سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
ریڈیو پاکستان کے نجی وکیل شبیر حسین گیگیانی ایڈووکیٹ کے مطابق پولیس تفتیش چھ ماہ قبل ہی مکمل ہو چکی تھی جس میں ان رہنماؤں کے خلاف براہِ راست شواہد سامنے آئے تھے۔
تاہم پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی جانب سے پولیس حکام پر شدید محکمانہ دباؤ ڈالا گیا اور تفتیشی افسران کو تبادلوں، معطلیوں اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دے کر چالان روکنے کی ناپاک کوشش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : لوٹ مار کی دکان بند ہوئی تو چیخیں نکل گئیں، پختونخوا کی معدنیات پر پی ٹی آئی کا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب
کیس کی تفصیلات سے معلوم ہوا ہے کہ صوبائی حکومت اور پراسیکیوشن نے نامزد سیاسی شخصیات کو بچانے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کیا۔
خصوصی پراسیکیوٹر نعمان الحق نے شواہد کی موجودگی کے باوجود چالان پیش کرنے سے انکار کیا اور سیاسی آقاؤں کو بچانے کے لیے جھوٹی رپورٹ جمع کرائی، جس پر ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت نے نجی وکیل کی تقرری رکوانے کے لیے ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا لیکن عدالت نے ان کی یہ درخواست مسترد کر کے ان کی سازش ناکام بنا دی۔
تمام تر سیاسی دباؤ، دھمکیوں اور رکاوٹوں کے باوجود نادرا اور فرانزک لیبارٹری کے ٹھوس ثبوتوں نے 9 مئی کے اصل کرداروں کو بے نقاب کر دیا ہے اور اب مقدمے کا فیصلہ عدالت میں شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔





