پشاور: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور صوبے میں انتظامی تبدیلیوں کے بعد معدنی وسائل سے متعلق سیاسی کشمکش میں شدت آگئی ہے۔
پختون ڈیجیٹل ریسرچ ٹیم کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے یہ بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی کا مقصد معدنی ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔
رپورٹ میں اس مؤقف کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے سابق دورِ حکومت میں مائننگ لائسنسز کے اجرا اور معدنی وسائل کے استعمال سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر اس مہم کو تقویت دینے کے لیے امریکی چارج ڈی افیئرز کی ایک پرانی ویڈیو بھی دوبارہ شیئر کی جا رہی ہے، جس میں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں معدنی وسائل کی صلاحیت کا ذکر کیا گیا تھا۔
رپورٹ کا مؤقف ہے کہ پرانی ویڈیو کو موجودہ سیاسی حالات سے جوڑ کر پیش کرنے سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی اور افغان اکاؤنٹس کا ایک اور جھوٹ بے نقاب، ہیلتھ کارڈ پروگرام کے خلاف من گھڑت پروپیگنڈا اور روزانہ فیک نیوز پھیلانے لگے
پختون ڈیجیٹل ریسرچ ٹیم سے منسوب رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے سے قبل خیبر پختونخوا میں مائننگ لائسنسز کی تعداد ایک ہزار سے کم تھی، تاہم پارٹی کے تقریباً 13 سالہ دورِ اقتدار میں یہ تعداد بڑھ کر 4,719 سے تجاوز کر گئی۔
رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان لائسنسز کے ذریعے من پسند سیاست دانوں، ٹھیکیداروں اور دیگر بااثر افراد کو فائدہ پہنچایا گیا، جبکہ معدنی وسائل کو جدید طریقوں سے پراسیس کرکے تیار شدہ مصنوعات بنانے کے بجائے خام مال نکالنے پر زیادہ توجہ دی گئی۔
تاہم لائسنسز کی مجموعی تعداد، ان کے حاملین اور مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ تصدیق کے لیے متعلقہ سرکاری ریکارڈ کا جائزہ ضروری ہے۔
رپورٹ میں دریائے سندھ کے کنارے پلیسر گولڈ سمیت دیگر معدنیات نکالنے کی سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ متعدد مقامات پر ایکسکویٹرز کے ذریعے ریت سے سونا اور دیگر معدنیات نکالی جاتی رہیں اور بعض سرگرمیاں غیر قانونی تھیں۔
مزید الزام یہ بھی لگایا گیا ہے کہ ان سرگرمیوں سے منسلک بعض کمپنیوں کا تعلق پی ٹی آئی کے سابق وزرا سے تھا۔ ان الزامات کی تصدیق کے لیے متعلقہ لائسنسز، کمپنیوں کی ملکیت اور قانونی کارروائیوں سے متعلق شواہد درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کو یرغمال بنا کر رکھا، دہشت گردی، انتشار اور بدامنی نے صوبے کا امن تباہ کر دیا، وفاقی وزراء
معدنی وسائل پر ریاستی اداروں کے کنٹرول سے متعلق الزامات کے جواب میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے پاس بویاڈیگن کے مقام پر ایک مائننگ منصوبہ موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے اور اس سے متعلق مختلف مواقع پر میڈیا کوریج بھی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے صوبے کے معدنی وسائل پر قبضے کے الزامات درست نہیں، تاہم اس دعوے کا جامع جائزہ لینے کے لیے متعلقہ لائسنسنگ ریکارڈ اور منصوبے کی انتظامی تفصیلات کی آزادانہ جانچ اہم ہے۔
ماہرین کے عمومی مؤقف کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں معدنی وسائل سے پائیدار معاشی فائدہ حاصل کرنے کے لیے شفاف سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی، تربیت یافتہ افرادی قوت اور مؤثر قانونی نگرانی ضروری ہے۔
اس شعبے میں خام معدنیات نکال کر فروخت کرنے کے بجائے انہیں مقامی سطح پر پراسیس کرکے تیار شدہ مصنوعات میں تبدیل کرنے سے روزگار، صنعتی سرگرمیوں اور قومی آمدن میں اضافہ ممکن ہے۔
اس کے ساتھ ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد، کان کنی کے محفوظ طریقوں، بہتر ٹرانسپورٹ اور مضبوط سپلائی چین کی تشکیل بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کے ’انتشاری ٹولے‘ کا گھناؤنا کھیل تمام: 13 سالہ تاریک دور کا سیاہ باب دفن، گورنر راج کا نفاذ ہوتے ہی کے پی میں جشن اور ریلیاں
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ معدنی وسائل سے متعلق فیصلے سیاسی وابستگیوں یا ذاتی مفادات کے بجائے شفاف قواعد و ضوابط اور عوامی فلاح کی بنیاد پر کیے جانے چاہییں۔ اس کے لیے لائسنسز کی تفصیلات، آمدن، رائلٹی، ماحولیاتی اثرات اور مقامی آبادی کو حاصل ہونے والے فوائد سے متعلق معلومات عوام کے سامنے لانا ضروری ہے۔
خیبر پختونخوا میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد معدنی وسائل کے معاملے پر سوشل میڈیا پر مختلف دعوے گردش کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ پرانی ویڈیوز، غیر مصدقہ اعداد و شمار اور سیاسی الزامات کو موجودہ حالات سے جوڑ کر عوامی رائے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ صحافتی ٹیمیں متعلقہ کان کنی کے مقامات کا دورہ کریں، آزاد ماہرین اور مقامی افراد کے انٹرویوز کریں اور لائسنسنگ و معدنی پیداوار سے متعلق سرکاری ریکارڈ کی جانچ کریں تاکہ عوام کے سامنے مستند معلومات لائی جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : ملک بھر میں سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ، فی بوری کے نئے نرخ سامنے آگئے
معدنی وسائل خیبر پختونخوا کے عوام کا اہم معاشی اثاثہ ہیں۔ ان سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ تقسیم، غیر قانونی کان کنی کی روک تھام اور تمام منصوبوں میں شفافیت یقینی بنانا صوبے کی معاشی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
پی ٹی آئی کے دور میں لائسنسز کے اجرا اور موجودہ سیاسی حالات سے متعلق سامنے آنے والے دعووں کی حتمی حقیقت جاننے کے لیے متعلقہ سرکاری دستاویزات، آزادانہ تحقیقات اور قابلِ تصدیق شواہد کی بنیاد پر جائزہ لینا ضروری ہے۔





