پشاور :پشاور میں عوام کو گمراہ کرنے اور سیاسی مفادات کے حصول کے لیے سوشل میڈیا پر ایک بار پھر منفی پروپیگنڈے کا طوفان کھڑا کیا گیا، تاہم حقائق نے اس مکروہ کھیل کو بے نقاب کر کے رکھ دیا۔
سوشل میڈیا پر گزشتہ روز سے یہ افواہیں جنگل کی آگ کی طرح پھیلائی جا رہی تھیں کہ پشاور بی آر ٹی کی تمام بسیں پنجاب بھجوا دی گئی ہیں اور شہر میں بس سروس معطل کر دی گئی ہے۔
اس من گھڑت پروپیگنڈے کی حقیقت جاننے کے لیے جب زمینی حقائق کا جائزہ لیا گیا تو یہ دعوے سراسر جھوٹے اور بے بنیاد ثابت ہوئے۔
صدر بی آر ٹی اسٹیشن سے زمینی حقائق:
اس حوالے سے جب صدر بی آر ٹی اسٹیشن پر موجود زمینی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور وہاں موجود مسافروں سے بات کی گئی تو انہوں نے افواہوں کی دھجیاں اڑا دیں۔
ریگی کی رہائشی اور کینٹونمنٹ میں ملازمت کرنے والی ایک مسافر خاتون نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ وہ روزانہ بی آر ٹی کے ذریعے سفر کرتی ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں بے بنیاد تھیں کیونکہ بسیں حسبِ معمول وقت پر چل رہی ہیں اور انہیں سفر میں کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں : سرکاری گاڑیوں پر عیاشیاں کرنے والوں کا دَور ختم: بونیر میں گاڑیوں کی عدم واپسی پر پی ٹی آئی وزراء کے خلاف مقدمات درج
مسافر خاتون کا کہنا تھا کہ اتوار کو چھٹی اور پیر کے روز دفاتر بند رہنے کی وجہ سے انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوئی، تاہم منگل کی صبح جب سروس بحال ہوئی تو بسیں ایک آدھ منٹ کے فرق کے ساتھ اپنے معمول کے مطابق رواں دواں تھیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وہ صبح ساڑھے چھ بجے سفر شروع کرتی ہیں، اور آج بھی بس ٹھیک وقت پر آئی، بروقت بورڈ بازار پہنچی اور کینٹ مال روڈ کی طرف جانے والی بس بھی مقررہ وقت پر دستیاب تھی، جبکہ بسوں میں معمول کا رش بھی نسبتاً کم دیکھا گیا۔
بی آر ٹی انتظامیہ کا دوٹوک مؤقف:
دوسری جانب بی آر ٹی انتظامیہ نے بھی ان افواہوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صبح چھ بجے سے رات ساڑھے دس بجے تک بی آر ٹی سروس تمام فعال روٹس پر مکمل طور پر بحال ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور میں معمولاتِ زندگی بحال، بی آر ٹی سروس بھی آج سے شروع ہوگی
انتظامیہ کے مطابق سوشل میڈیا پر بسیں غائب ہونے سے متعلق چلنے والی تمام خبریں من گھڑت ہیں اور شہری بلا تعطل اپنے روزمرہ کے سفر کی سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
پرانی ویڈیوز کا مکروہ پروپیگنڈا بے نقاب:
تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس جعلی پروپیگنڈے کے پیچھے ایک سوچی سمجھی سازش کارفرما تھی۔ عناصر نے اگست 2026میں پشاور پہنچنے والی بی آر ٹی بسوں کی پرانی ویڈیوز کو اب کا بتا کر پنجاب سے منسوب کیا اور سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔ عوام کو گمراہ کرنے کی یہ کوشش بھی بری طرح ناکام ہو گئی ہے کیونکہ مسافروں کی موجودگی اور رواں دواں بسوں نے پروپیگنڈا کرنے والوں کے جھوٹ کا پول کھول دیا ہے۔





