پشاور: خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ اور ملحقہ علاقوں میں پرتشدد مظاہروں، جلاؤ گھیراؤ اور قانون ہاتھ میں لینے والے شرپسند عناصر کے خلاف انتظامیہ کا سیکیورٹی الرٹ ہائی کر دیا گیا ہے۔
بدامنی پھیلانے والوں سے نمٹنے کے لیے پشاور پولیس نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، جبکہ اب تک کی کارروائیوں میں پرتشدد واقعات اور توڑ پھوڑ میں ملوث 50 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید باڑہ بازار اور گردونواح میں تمام تر سیکیورٹی انتظامات اور ٹارگٹڈ اقدامات کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں۔
پشاور پولیس اور خیبر پولیس کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین سخت کوآرڈی نیشن قائم کر دی گئی ہے اور پولیس کے تازہ دم دستے الرٹ ہو کر باڑہ میں امن کی بحالی کے لیے متحرک ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور میں بی آر ٹی بسیں پنجاب بھیجنے کا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب،مسافروں اور انتظامیہ کی تردید،سازش ناکام
سی سی پی او پشاور نے دوٹوک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنا اور شہریوں کے جان و مال اور سرکاری املاک کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے، جس پر کسی بھی صورت کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ احتجاج کی آڑ میں شاہراہیں بند کرنے، عوامی زندگی مفلوج کرنے یا سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی اور دیگر سخت قانونی دفعات کے تحت آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
حکام کے مطابق پرتشدد مظاہروں اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث شرپسندوں کی اعلیٰ سطح پر ویڈیو ریکارڈنگ اور جیوفینسنگ کی جا رہی ہے تاکہ کوئی بھی قانون کی گرفت سے نہ بچ سکے۔
یہ بھی پڑھیں : غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین سے متعلق بڑا فیصلہ، انتظامیہ متحرک
پولیس نے علاقے کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان قائم رکھنے اور دشمن عناصر کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے پولیس اور انتظامیہ سے تعاون کریں۔
دوسری جانب خیبر انتظامیہ اور پشاور پولیس کے بروقت اور کامیاب ایکشن کے بعد صوبائی دارالحکومت پشاور میں حالات مکمل طور پر معمول پر آ گئے ہیں۔
تمام اہم شاہراہیں اور تجارتی راستے ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق سیکیورٹی پابندیوں میں نرمی کے بعد جی ٹی روڈ، یونیورسٹی روڈ، کوہاٹ روڈ اور دیگر مرکزی سڑکوں پر گاڑیاں رواں دواں ہیں، جبکہ پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) سروس بھی تمام روٹس پر معمول کے مطابق بحال ہو چکی ہے۔
حکومت نے واضح ہدایات جاری کر دی ہیں کہ ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والے عناصر کو کسی بھی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور پولیس شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتی رہے گی۔





