افغان مہاجرین کیخلاف بڑا آپریشن، متعددافغانی گرفتار، طورخم کے راستے ملک بدر

غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین سے متعلق بڑا فیصلہ، انتظامیہ متحرک

پشاور: خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی بدلتی ہوئی صورتحال اور ایپکس کمیٹی کے حتمی احکامات کی روشنی میں صوبائی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف یکم نومبر سے بلا امتیاز اور سنگین کریک ڈاؤن کا بگل بجا دیا ہے۔

 آپریشن کی منظوری ایپکس کمیٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں دی گئی جس میں قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کا اعادہ کیا گیا ہے۔

پشاور میں 5  لاکھ سے زائد افغان باشندوں کی نشاندہی

ذرائع کے مطابق صوبائی دارالحکومت پشاور میں 5  لاکھ سے زائد غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی نشاندہی کا عمل مکمل کر کے حتمی فہرستیں نوزائیدہ انتظامی افسران اور ڈپٹی کمشنر پشاور کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

صوبے کے حساس اور12  ایمرجنسی اضلاع میں بھی ایسی ہی فہرستیں تیار کر کے ضلاعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے تاکہ کارروائی کو مربوط بنایا جا سکے۔

مشترکہ فورس کا قیام اور سخت کارروائی

یکم نومبر سے شروع ہونے والے اس گرینڈ آپریشن میں کسی بھی ادارے کو تنہا چھٹنے نہیں دیا جائے گا۔ پولیس، سیکیورٹی فورسز، وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FIA)، فرنٹیئر کور (FC) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر ٹارگٹڈ اقدامات کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی سینیٹر کی اہلیہ اور جونیئر پروفیسر کی ملی بھگت بے نقاب: کے ٹی ایچ پشاور میں کروڑوں کے مالیاتی گھپلے اور غیر قانونی بھرتیوں کا بڑا اسکینڈل

پشت پناہ اور سہولت کار بھی قانون کے شکنجے میں

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس بار صرف غیر قانونی مقیم غیر ملکی ہی نہیں بلکہ ان تمام بااثر اور مقامی افراد کی فہرستیں بھی مرتب کر لی گئی ہیں جو ان غیر رجسٹرڈ باشندوں کو اپنے ہاں پناہ دے رہے تھے، جاگیریں یا کاروبار مہیا کر رہے تھے یا ان کی پشت پناہی میں ملوث تھے۔ ان سہولت کاروں کے خلاف بھی سنگین قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے حکومتی سطح پر نرمی اور رعایت برتی جا رہی تھی، لیکن خیبر پختونخوا میں امن و امان اور سیکیورٹی چیلنجز بڑھنے پر ریاستی اداروں نے آئینی و قانونی ہتھوڑا چلاتے ہوئے بلاتفریق انخلا کے عمل کو یقینی بنانے کا حتمی پلان تشکیل دے دیا ہے۔

Scroll to Top