پاکستان اور سلطنتِ عمان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور متعدد شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق ہوا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے 5 اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کر دیے ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی نے 13 اور 14 اکتوبر کو پاکستان کا دو روزہ سرکاری دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ تفصیلی دوطرفہ مذاکرات کیے، وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور پاکستان عمان مشترکہ وزارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔
مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، زراعت، صنعت، میری ٹائم رابطوں، افرادی قوت، تعلیم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت متعدد کلیدی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔
اجلاس کے اختتام پر جن 5 معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ان میں سفارتی، خصوصی، سرکاری اور سروس پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا چھوٹ، ریکارڈز اور آرکائیوز میں تعاون، میڈیا، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور خبروں کے تبادلے کے شعبے شامل ہیں۔
دونوں جانب سے مشترکہ وزارتی کمیشن کا اگلا (نواں) اجلاس آئندہ برس مسقط میں منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
مذاکرات کے دوران علاقائی و عالمی سیکیورٹی کی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے عمانی ہم منصب کو مسئلہ فلسطین، بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر اور افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی سے متعلق پاکستان کے بنیادی اور اصولی مؤقف سے تفصیلاً آگاہ کیا۔
اس موقع پر اسحاق ڈار نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بھارتی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مؤثر، قابلِ عمل اور دونوں فریقین پر قانونی طور پر لاگو ہے۔
عمانی وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی نے پاکستان کی بہترین مہمان نوازی اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اسلام آباد کی کاوشوں کو سراہا، نیز دونوں برادر ممالک کے درمیان تاریخی دوستانہ تعلقات کو مستقبل میں مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔





