پشاور: پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے دلخراش سانحے میں 30معصوم بچے اور خاتون ٹیچر شہید جبکہ 47 سے زائد شدید زخمی ہو گئے۔
اس ہولناک واقعے کے بعد عوام میں شدید غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، اور عوام نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 13 سالہ اقتدار، کرپٹ نظام اور نااہل انتظامیہ کو اس خونریز واقعے کا براہِ راست ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔
اسکولوں کی ناقص نگرانی: 13 سالہ غفلت اور دھرنا سیاست
اسکولوں کی ناقص نگرانی کے نظام اور حکومت کی شدید عدم توجہی نے معصوم جانیں نگل لیں۔ پچھلے 13 سالوں میں صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے اور ریفارمز لانے کے بجائے نام نہاد دھرنا سیاست کرنے والوں نے اسکولوں کی بلڈنگز تک چیک کرنے کی زحمت نہیں کی۔
اس دوران دھڑا دھڑ رشوت لے کر پرائیویٹ اسکولوں کو لائسنس جاری کیے گئے، جبکہ نجی اسکولوں کے قیام کے لیے موجود ایس او پی ایز (SOPs) پر عمل درآمد کروانے میں بھی یہ نااہل حکومت مکمل طور پر ناکام رہی۔
فوج اور اداروں کا بروقت رسپانس اور گرفتاری
ہمیشہ کی طرح اس سانحے میں بھی پاک فوج اور دیگر ریسکیو اداروں نے بروقت پہنچ کر امدادی سرگرمیاں شروع کیں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔
یہ بھی پڑھیں : ریسکیو آپریشن کی خود مانیٹرنگ، گورنر خیبر پختونخوا کا دیر کالونی سانحے کا سخت نوٹس اور تفصیلی رپورٹ طلب
دوسری جانب پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا کا سخت نوٹس
واقعے کے فوراً بعد گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی کی، متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا اور صوبائی انتظامیہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے واضح کیا کہ غفلت کے ذمہ داروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
آئی جی پولیس اور گرین کوریڈور
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کی ہدایت پر زخمی بچوں کی منتقلی کے لیے پشاور میں گرین کوریڈور فعال کیا گیا جبکہ سی سی پی او پشاور خود تمام آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سانحے کے ذمہ دار قانون سے نہیں بچ سکیں گے، غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت ترین ایکشن ہوگا، ثمر ہارون بلور
عوام کے سلگتے سوالات: کیا سابق وزراء اور مشیرِ تعلیم ذمہ دار نہیں؟
عوام اور سول سوسائٹی نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے کچھ انتہائی اہم اور سخت سوالات اٹھائے ہیں:
خستہ حال عمارتوں میں اسکول چلانے کی اجازت کس نے دی؟
سرکاری سطح پر سفارش اور رشوت کلچر کو کس نے عام کیا؟
کیا اب موجودہ سیٹ اپ کو اس مجرمانہ غفلت پر سابق وزراء اور سابق مشیرِ تعلیم کا کڑے سے کڑا احتساب نہیں کرنا چاہئے؟
کیا ان معصوم بچوں اور ان کے grieving والدین کو انصاف دلانا اور ذمہ داروں کو پھندے تک پہنچانا ضروری نہیں ہے؟
پشاور کے عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ محض اسکول مالک کی گرفتاری کافی نہیں، بلکہ پچھلے 13 سالوں میں تعلیمی شعبے کو تباہ کرنے والے سیاسی مافیا اور کرپٹ وزراء کو بھی کٹہرے میں لایا جائے۔





