پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی سکول کی تین منزلہ عمارت زمین بوس ہونے کے المناک حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں جبکہ ابتدائی تحقیقات میں چھت کی تعمیر میں غیر معیاری اور ناقص مواد کے استعمال کو اس تباہی کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سکول کے مالک کو حراست میں لے کر ذمہ داروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں ایمبولینسز اور ڈیزاسٹر وہیکلز کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچیں اور ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا۔ گھنٹوں جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن کے بعد ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکال لیا گیا ہے۔
ہسپتال اور ریسکیو ذرائع کے مطابق اس دل خراش واقعے میں ایک خاتون ٹیچر سمیت 35 بچے جاں بحق جبکہ 53 بچے زخمی ہوئے ہیں۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق 33 لاشیں اور 20 زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال جبکہ 2 لاشیں اور 33 زخمیوں کو نصیر اللہ ہسپتال منتقل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : کرپٹ گٹھ جوڑ بے نقاب: اسکول مالک کا ناقص تعمیر کا اعتراف، پی ٹی آئی کے 13 سالہ تاریک دور پر سوالات کی بوچھاڑ
لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم کا کہنا ہے کہ بیشتر زخمی بچوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا ہے تاہم سر پر شدید چوٹیں آنے کے باعث تین زخمی بچوں کی حالت تشویشناک ہے جن کا علاج جاری ہے۔
تمام جاں بحق افراد کی لاشیں ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں۔





