پشاور دیر کالونی کے افسوسناک واقعے کے بعد جہاں پی ٹی آئی کے تیرہ سالہ دورِ اقتدار کی مجرمانہ غفلت اور نااہلی کھل کر سامنے آ چکی ہےوہیں اب نئی صوبائی حکومت نے صوبے میں معصوم بچوں اور اساتذہ کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
مشیر برائے تعلیم کی خصوصی ہدایات پر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W) ڈیپارٹمنٹ کو ایک اہم خط جاری کیا ہے۔
خط کے مطابق صوبے بھر کے تمام سرکاری اسکولوں کی عمارات کا اسٹرکچرل سروے اور جسمانی معائنہ کرنے کے لیے فوری طور پر کوالیفائیڈ تکنیکی ٹیمیں نامزد کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
یہ ٹیمیں ضلعی ایجوکیشن حکام کے ساتھ مل کر اسکولوں کی چھتوں، دیواروں، ستونوں اور بنیادی ڈھانچے کا باریک بینی سے جائزہ لیں گی تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون سی عمارات محفوظ ہیں۔
معائنے کے بعد اسکولوں کی عمارات کو تین الگ الگ کیٹیگریز میں تقسیم کیا جائے گا، جن میں محفوظ، مرمت طلب اور فوری تکنیکی جانچ کی محتاج عمارات شامل ہیں۔
تکنیکی ٹیموں کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اپنا مکمل سروے اور جامع رپورٹ 26 اکتوبر 2026 کو دوپہر 12 بجے تک محکمہ تعلیم کو لازمی جمع کرائیں۔
جو عمارتیں بھی طلباء اور عملے کے لیے خطرہ بن رہی ہوں گی، ان کے استعمال کو فوری طور پر معطل کیا جائے گا تاکہ کسی بھی نئے سانحے کو روکا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : پیٹرول کی قیمت میں کمی ،ڈیزل مہنگا، نوٹیفکیشن جاری
سروے اور مرمت کے اس مرحلے کے بعد ہر اسکول کی عمارت کے لیے باقاعدہ بلڈنگ سیفٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ یا این او سی حاصل کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔





