گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت گورنر ہاؤس میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کی مجموعی کارکردگی اور انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں کمیشن کے چیئرمین کیپٹن ریٹائرڈ منیر اعظم اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر چیئرمین نے گورنر کو ادارے کی کارکردگی، مالیاتی صورتحال، درپیش چیلنجز اور آئندہ کے امتحانی منصوبوں پر بریفنگ دی۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پبلک سروس کمیشن نے امیدواروں کی آسانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا ہے، جس کے تحت کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ اور آن لائن فیس جمع کرانے کا طریقہ کار کام کر رہا ہے۔
امیدواروں کو درپیش مسائل کے فوری حل اور معلوماتی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے پبلک سروس کمیشن کی جانب سے ایک خصوصی موبائل رابطہ سروس بھی جلد فعال کی جا رہی ہے۔
امتحانات کے شیڈول کے حوالے سے آگاہ کیا گیا کہ پروونشل مینجمنٹ سروس کے اہم امتحانات رواں برس دسمبر کے مہینے میں منعقد کیے جائیں گے جس کی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔
پولیس محکمے میں ترقیوں اور خالی نشستوں پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ڈی ایس پی اور سب انسپکٹر کی آسامیوں کے لیے امتحانات کی تاریخ پہلے جنوری دو ہزار ستائیس طے کی گئی تھی۔
تاہم گورنر فیصل کریم کنڈی نے ہدایت جاری کی کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر پولیس فورس میں نفری کی کمی کو جلد پورا کرنا انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے حکام کو پابند کیا کہ ڈی ایس پی اور سب انسپکٹر کی آسامیوں کے لیے ٹیسٹ جنوری دو ہزار ستائیس سے پہلے ہر صورت منعقد کیے جائیں تاکہ بھرتیوں کا عمل تیزی سے مکمل ہو سکے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کمیشن کو درپیش مسائل دور کرنے کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ شفافیت اور میرٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : روزانہ 5 گھنٹے سے کم سونا کن سنگین امراض کا سبب بن سکتا ہے؟ماہرین نے بتادیا
انہوں نے یہ ہدایت بھی کی کہ صوبائی کمیشن کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے اور امیدواروں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے دیگر صوبوں کے پبلک سروس کمیشنز کے قوانین اور اصولوں سے بھی استفادہ کیا جائے۔





