سابقہ پی ٹی آئی حکومت کے طویل دورِ اقتدار میں خیبرپختونخوا کے تعلیمی شعبے کو شدید غفلت، کاغذی منصوبوں، ناقص نگرانی اور فنڈز کے جمود کا شکار بنا کر نوجوانوں کے مستقبل سے جو کھلواڑ کیا گیا، موجودہ گورنر راج کے قائم ہوتے ہی ان تمام تباہ کاریوں کا ازالہ ہنگامی بنیادوں پر شروع کر دیا گیا ہے۔
گورنر راج کی تعلیمی اصلاحات کی پالیسی کے تحت ممبر ایڈوائزری کونسل برائے تعلیم ڈاکٹر سید عامر عبداللہ نے صوبے کے تعلیمی دھارے کو جدید اور فعال بنانے کے لیے پے در پے تاریخی اور عملی فیصلے کیے ہیں۔
ایک اہم پیش رفت کے تحت شہریوں اور بالخصوص طلبہ کی مطالعاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے پشاور پبلک لائبریری کو بیک وقت تین شفٹوں میں رات 12 بجے تک کھلا رکھنے کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کا باضابطہ اعلامیہ ڈائریکٹر آرکائیوز و لائبریریز خیبر پختونخوا نے جاری کر دیا ہے۔
سابقہ پی ٹی آئی حکومت کی عدم توجہی کے باعث صوبے کی 16 پبلک لائبریریز جو ویرانی کا منظر پیش کر رہی تھیں، اب پشاور کے اس پائلٹ پروجیکٹ کی کامیابی کے بعد پورے صوبے میں رات 12 بجے تک کھولی جائیں گی تاکہ طلبہ کو مطالعے کی بہترین سہولت مل سکے۔
یہ بھی پڑھیں : سابق دور کی کالی بھیڑیں اور رشوت خور تیار ہو جائیں: پی ٹی آئی دور کا کرپٹ کلچر ختم! صوابی انتظامیہ کا واٹس ایپ نمبر کے ساتھ بڑا سرپرائز!
علاوہ ازیں ممبر ایڈوائزری کونسل ڈاکٹر عامر عبداللہ نے حیات آباد پشاور میں ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا، جہاں ایم ڈی قیصر عالم، سپیشل سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم مسعود احمد اور دیگر اعلیٰ حکام نے انہیں ادارے کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی۔
سابق پی ٹی آئی دور کی کاغذی کارکردگی اور ڈیٹا کی ہیرا پھیری کا نوٹس لیتے ہوئے ڈاکٹر عامر عبداللہ نے سخت ہدایت کی کہ اسکولوں سے باہر بچوں کا مستند اور شفاف ڈیٹا نادرا کے فارم بی یونیک نمبرز سے مماثل کیا جائے اور پچھلے تین سالوں میں غیر رسمی تعلیم سے رسمی تعلیم میں شامل ہونے والے بچوں کے شفاف اعداد و شمار پیش کیے جائیں۔ انہوں نے ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کے تحت طلبہ کی سیکھنے کی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے لیے کسی خود مختار تھرڈ پارٹی سے مانیٹرنگ کا پروپوزل مانگ لیا۔
گورنر راج کے تحت تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے گلبہار کے گلوبل ورچوئل ایجوکیشن اسکول میں جدید مصنوعی ذہانت (AI) کے بنیادی کورسز کے ساتھ ساتھ عربی اور فرانسیسی زبان دانی کے کورسز اور ماہر انسٹرکٹرز کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی۔ خصوصی بچوں کے لیے صوبے کے پہلے انکلوسیو اسکول پروجیکٹ کو توسیع دیتے ہوئے ایسے 10 نئے اسکول قائم کرنے کا حکم دیا اور غریب و ہونہار طلبہ کے لیے خصوصی وظائف شروع کرنے کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی دور کی بے حسی کے باوجود کے پی سائیکلسٹس کا معرکہ: 10ویں نیشنل چیمپئن شپ میں 6 میڈلز جیت لیے!
سابق حکومت کی جانب سے اساتذہ کے استحصال کا خاتمہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عامر عبداللہ نے غیر رسمی اسکولوں کے اساتذہ کی تنخواہوں کو فوری طور پر حکومت کی مقررہ کم از کم اجرت کے برابر لانے کی ہدایت کی۔
مزید برآں پنجاب کی طرز پر خیبرپختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے ایک عظیم الشان اینڈومنٹ فنڈقائم کرنے اور جن علاقوں میں 3 کلومیٹر کے اندر انٹر کالجز نہیں ہیں، وہاں ہائی اسکولوں میں کلاسز کا آغاز کرنے کی بھی ہدایات جاری کی گئیں۔
تعلیمی و عوامی حلقوں نے گورنر راج کی ان زبردست انتظامی اصلاحات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابقہ پی ٹی آئی حکومت نے 13 سال میں صوبے کی تعلیم کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا، جبکہ گورنر راج نے محض چند دنوں کے اندر صوبے کو ایک جدید اور شفاف تعلیمی نظام کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔





