اوورسیز پاکستانیوں کا استحصال ختم! عمان میں ملازمت کے نئے لیبر ضوابط جاری، 7 دن کے نوٹس اور 3 ماہ پروبیشن کی شرط لازمی

سلطنت عمان میں مقیم اور نئے روزگار کے سلسلے میں جانے والے ہزاروں پاکستانی محنت کشوں کے قانونی تحفظ اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ پاکستان نے ایک جامع گائیڈ لائن جاری کی ہے۔ اس پیش رفت کا بنیادی مقصد تارکینِ وطن کو ملازمت کے معاہدوں بالخصوص پروبیشن (آزمائشی) مدت کے دوران درپیش مسائل اور غیر قانونی برطرفیوں سے بچانا ہے۔

پروبیشن پیریڈ کی شفاف حد بندی:
بیورو آف امیگریشن کی جانب سے جاری کردہ آگاہی مراسلے کے مطابق سلطنتِ عمان کے لیبر لاء کے آرٹیکل 37 کی روشنی میں ہر ملازم کے کنٹریکٹ میں پروبیشن کی شق واضح طور پر تحریر ہونی چاہیے۔

قانون کے مطابق ماہانہ اجرت پر کام کرنے والوں کے لیے آزمائشی مدت کسی صورت 3 ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی اسی طرح روزانہ یا ہفتہ وار اجرت والوں کے لیے پروبیشن کی زیادہ سے زیادہ حد 2 ماہ مقرر کی گئی ہے۔

ملازمین کے استحصال کا سدِباب:
نئے ضوابط کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ مالکان اب کسی ملازم کو ایک ہی ملازمت میں بار بار یا بلا جواز پروبیشن کی مدت میں نہیں رکھ سکتے۔ مزید برآں جیسے ہی کوئی کارکن پروبیشن کا مرحلہ کامیابی سے عبور کرے گا اس کی یہ مدت اس کی کل ملازمت کے دورانیے کا باقاعدہ حصہ شمار ہوگی جس سے اس کے مراعاتی حقوق محفوظ رہیں گے۔

معاہدے کا اختتام اور 7 دن کی پیشگی اطلاع:
اگر آزمائشی مرحلے کے دوران ملازم یا آجر میں سے کوئی بھی یہ محسوس کرے کہ کام کا سلسلہ جاری رکھنا ممکن نہیںتو معاہدہ ختم کرنے سے کم از کم 7 دن پہلے تحریری نوٹس دینا قانونی طور پر لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس
شق کا مقصد اچانک برطرفی یا اچانک نوکری چھوڑنے سے پیدا ہونے والے تنازعات کو روکناد اور شفافیت لانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : وفاقی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ: متعدد اعلیٰ سول اور پولیس افسران کے تقرر و تبادلے

بیورو آف امیگریشن نے عمان میں روزگار کے خواہشمند تمام پاکستانیوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ دستاویزات پر دستخط کرنے سے قبل پروبیشن اور برطرفی سے متعلق تمام شقیں تحریری طور پر بغور پڑھیں تاکہ کسی بھی قسم کے معاشی یا قانونی نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔

Scroll to Top