سیاست میں اثر و رسوخ کو ذاتی مال و دولت میں بدلنے کی جو مثال فضل الرحمان نے قائم کی ہے اس کی تاریخ میں کم ہی مثالیں ملتی ہیں۔ اپوزیشن اور حکومت دونوں سے مراعات سمیٹنے کے ماہر ان صاحب پر اب یہ الزام شدت سے عائد ہو رہا ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کر کے اپنے خاندان اور قریبی رفقاء کے لیے اربوں روپے کی سلطنت کھڑی کی ہے۔
ڈی آئی خان میں زمینوں کی الاٹمنٹ اور سرکاری قبضے:
سرکاری دستاویزات اور مقامی اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا بالخصوص ڈیرہ اسماعیل خان میں مختلف ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ میں ان کے خاندان کا بڑا عمل دخل رہا ہے۔ سستے داموں خریدی گئی زمینوں کو سرکاری منصوبوں کے لیے بااثر طریقے سے گراں قدر قیمتوں پر فروخت کر کے کروڑوں روپے کا منافع کمایا گیا، جبکہ زرعی زمینوں کو بے نامی طور پر اپنے ملازمین اور فرنٹ مینز کے نام منتقل کیا گیا۔
فرنٹ مینز اور دبئی میں سرمایہ کاری:
نیب کی رپورٹس کے مطابق فضل الرحمان کے قریبی ساتھیوں اور فرنٹ مینز کے اکاؤنٹس میں اچانک کروڑوں اور اربوں روپے کی غیر معمولی نقل وحرکت دیکھی گئی۔ ان فنڈز کو بعد میں دوبئی اور دیگر غیر ملکی خطوں میں حقیقی اثاثوں کی خرید و فروخت میں استعمال کرنے کا شبہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مذہب کا کارڈ یا اربوں کے اثاثے؟ فضل الرحمان کی مبینہ کرپشن، بے نامی جائیدادوں اور ڈیزل پرمٹس کی کہانی
مراعات کی سیاست:
ہر بننے والی حکومت میں اپنے لیے یا اپنے بھائیوں اور بیٹے کے لیے وفاقی وزارتیں، بلٹ پروف گاڑیاں، سرکاری بنگلے اور لا تعداد وی آئی پی مراعات حاصل کرنا ان صاحب کی سیاست کا بنیادی طرۂ امتیاز رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا سوال ہے کہ ایک مذہبی رہنما جو کبھی کسی کاروبار یا انڈسٹری کا مالک نہیں رہا، اس کے پاس اربوں روپے کے یہ محل، پروٹوکول اور گاڑیوں کے قافلے آخر کہاں سے آئے؟





