کرپشن، آمدن سے زائد اثاثے اور دوہرا معیار، فضل الرحمٰن کے مفاد پرستانہ کھیل پر عوام کا سخت ردِعمل

اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں بدامنی، دہشت گردی اور ترقیاتی فنڈز کی خردبرد پر سیاست چمکانے والے فضل الرحمٰن کا ماضی اور حال خود ان کے جھوٹ کا پردہ چاک کر رہا ہے۔

 صوبے میں طویل عرصے سے حکومتی رٹ اور بدامنی کا رونا رونے والے فضل الرحمٰن سے قوم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ سابقہ فاٹا اور خیبر پختونخوا کی بربادی کی اصل بنیاد کس نے رکھی۔

فضل الرحمٰن اب صوبائی حکومت اور وفاق پر الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ سابقہ فاٹا اور خیبر پختونخوا کے پسماندہ اضلاع کو بنیادی حقوق، فنڈز اور ترقی سے محروم رکھنے میں سب سے بڑا ہاتھ ان ہی جماعتوں کا ہے جو سالہا سال تک اقتدار کے مزے لیتی رہیں۔

فضل الرحمٰن کی پوری سیاست کا محور صرف اور صرف کرسی اور حصہ ہے کیونکہ جب تک انہیں من پسند وزارتیں یا سیاسی رول ملتا رہے، نظام ٹھیک رہتا ہے اور جیسے ہی ریاست دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرے یا انہیں اقتدار سے باہر ہونا پڑے، وہ ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں۔

 جو رہنما کل تک انتشاری تحریک اور انتشاری ٹولے کے سخت ترین ناقد تھے اور انہیں ہر برائی کی جڑ قرار دیتے تھے آج وہی سیاسی مجبوریوں کے تحت ان ہی کے بیانیے کو لے کر چل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : جن کی وکالت آج کر رہے ہیں، کل وہی آپ کی ذات کا تمسخر اڑاتے تھے: مریم نواز نے مولانا فضل الرحمان کو ماضی کی بدزبانی یاد دلا دی!

 پاکستان کے باشعور عوام فضل الرحمٰن کی بلیک میلنگ سیاست کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اور جو لوگ مذہب کے نام پر سیاست کرتے آئے ہیں لیکن عملی طور پر قومی سلامتی کے خلاف کھڑے عناصر کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں انہیں اب مزید چھپنے کا موقع نہیں ملے گا۔

 ریاست اور عوام کا فیصلہ واضح ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے فکری و سیاسی سہولت کاروں کو اب مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔

 خود کو جمہوریت کا چیمپئن اور عوام کا خیرخواہ کہنے والے فضل الرحمٰن کا دوہرا معیار کھل کر سامنے آگیا ہے کیونکہ انہوں نے خیبر پختونخوا کی ابتر امن و امان کی صورتحال اور حکومتی رٹ نہ ہونے کا رونا تو خوب رویا، لیکن جیسے ہی ریاست اور وفاق نے اس ناسور کے خلاف فیصلہ کن ایکشن لیتے ہوئے گورنر راج یا سخت انتظامی اقدامات کا راستہ اختیار کیا تو فضل الرحمٰن کی زبان ہی بدل گئی۔

 درحقیقت ان کا سارا درد امن و امان کا نفاذ نہیں بلکہ اقتدار کے نئے سیٹ اپ میں اپنا من پسند حصہ اور عہدہ نہ ملنا ہے۔ صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر سیاست چمکانے والے فضل الرحمٰن جب خود اقتدار کے ایوانوں سے باہر ہوئے تو حواس باختہ ہو کر ریاست کے ہر اس اقدام کی مخالفت پر اتر آئے جو ملک اور صوبے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا تھا۔

 فضل الرحمٰن کے والد مفتی محمود پاکستان کی مذہبی اور سیاسی تاریخ کا ایک معتبر نام تھے جنہوں نے انتہائی سادگی میں زندگی گزاری اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک چھوٹے سے گھر سے اپنی سیاست چلائی لیکن مفتی محمود کی رحلت کے بعد فضل الرحمٰن نے پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی تو صورتحال بالکل بدل گئی۔

یہ بھی پڑھیں : محسن نقوی نے گورنر شپ اور گورنر راج میں حصہ نہ ملنے پرناراض سیاسی جماعت کے سربراہ کی بلیک میلنگ کا پردہ فاش کر دیا

 تجزیہ نگاروں کے مطابق فضل الرحمٰن کے پاس آمدن کا کوئی واضح اور معلوم ذریعہ، بڑا کاروباری سیٹ اپ یا صنعتی یونٹ موجود نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اسلام آباد کے زون چار میں واقع پرتعیش فارم ہاؤس، لاہور و کراچی میں مہنگی جائیدادیں، لینڈ کروزرز کا قافلہ اور شاہانہ طرزِ زندگی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

 نیب کی جانب سے مختلف اوقات میں آمدن سے زائد اثاثوں اور سستے داموں سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ کے انکشافات نے ہمیشہ ان کے زہد پر سوالیہ نشان ثبت کیے ہیں۔

 مدارس کے نظام پر کنٹرول اور سیاسی بلیک میلنگ کے تحت فضل الرحمٰن نے ہمیشہ اپنے اثر و رسوخ کو اسٹریٹ پاور کے طور پر استعمال کیا ہے اور ہزاروں طالب علموں اور مدارس کی نیٹ ورکنگ کو سیاست میں اپنے مطالبات منوانے اور حکومتوں کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

مدارس کے نام غریبوں اور طالبعلموں کے نام پر استعمال ہوتے ہیں، جبکہ اس پاور بیس کے بدلے ملنے والی سیاسی مراعات اور فنڈز چند مخصوص خاندانوں کے حصے میں آتے ہیں۔

 فضل الرحمٰن ہمیشہ دوسروں کے کندھوں پر سوار ہو کر ایوانوں تک پہنچے ہیں چاہے وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کا دور ہو، آصف زرداری کی حکومت ہو، یا ن لیگ کی حکمرانی ہو، فضل الرحمٰن نے کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ، ڈیزل کے پرمٹ، اور وزارتیں حاصل کر کے ہمیشہ اقتدار کا حصہ وصول کیا۔

Scroll to Top