پشاور دیر کالونی حادثہ، گورنر کے پی کی ہدایت پر متاثرہ خاندانوں میں کروڑوں کے امدادی چیک تقسیم

رانی عندلیب

پشاور: خیبر پختونخوا میں حکومتی ناہلی اور عدم توجہی کے باعث ایک اور دردناک واقعہ سامنے آ گیا۔ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی بوسیدہ عمارت گرنے سے 32 معصوم بچے اور 2 خاتون اساتذہ جان بحق جبکہ 40 سے زائد بچے زخمی ہو گئے۔ 

افسوسناک امر یہ ہے کہ معصوم بچوں نے متعدد بار عمارت کی بوسیدگی اور حادثے کے خدشے سے انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا، مگر حکومتی بے حسی اور مالکان کی مجرمانہ غفلت کے باعث ان کی ایک نہ سنی گئی اور یہ المیہ رونما ہو گیا۔

واقعے کے بعد پولیس نے یکہ توت تھانے کی حدود میں واقع الخیر ایجوکیشن سسٹم کے مالکان وحید، جاوید، لیز ہولڈرز مفتی خان محمد، ریاض، معیز الرحمان، مولانا امیر حبیب اور ٹھیکیدار شاہ زمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے کارروائی شروع کر دی ہے۔

 تحقیقات کے مطابق 16 مرلے کے پلاٹ پر ناقص مٹیریل سے غیر معیاری عمارت تعمیر کی گئی جس میں 110 معصوم بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا گیا۔

دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر پشاور ڈاکٹر آفاق وزیر نے پورا دن غمزدہ خاندانوں کے ساتھ گزارا اور شہید بچوں کے والدین میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 10 لاکھ روپے کے امدادی چیک تقسیم کر دیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں : کرپشن، آمدن سے زائد اثاثے اور دوہرا معیار، فضل الرحمٰن کے مفاد پرستانہ کھیل پر عوام کا سخت ردِعمل

گورنر کی جانب سے شہید بچوں کے لواحقین کے لیے فی کس 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 2 لاکھ روپے کا اعلان کیا گیا تھا۔

 ڈپٹی کمشنر پشاور نے اس موقع پر واضح کیا کہ وہ لواحقین جو اپنے پیاروں کی تدفین کے لیے دوسرے اضلاع گئے ہوئے ہیں، انہیں واپسی پر امدادی چیک فراہم کیے جائیں گے۔

ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں زخمی بچوں کی فہرستوں کی تصدیق کر رہی ہیں تاکہ تمام زخمی بچوں کو بھی ایک دن کے اندر امداد فراہم کی جا سکے، اور ضلعی انتظامیہ پشاور اس مشکل گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

 اللہ تعالیٰ شہید بچوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے والدین و اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ضلعی سطح پر انکوائری کمیٹیاں قائم کر کے صوبے بھر کے نجی اسکولوں کے حفاظتی معائنے کا حکم بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

Scroll to Top