اسلام آباد: فضل الرحمٰن کی مفاد پرستانہ سیاست، آمدن سے زائد مبینہ اثاثوں اور مذہبی کارڈ کے بے دریغ استعمال نے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
ایک مدرسے سے شروع ہونے والے سفر سے لے کر ملک بھر میں 40 ہزار سے زائد مدارس کا نیٹ ورک قائم کرنے تک کے پسِ پردہ حقائق نے باشعور عوام کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
خیبر پختونخوا عوام کی جانب سے یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ ان ہزاروں مدارس کے نظام کو چلانے کے لیے اربوں روپے کہاں سے آتے ہیں، ان کا مالیاتی کنٹرول کس کے پاس ہے، اور یہاں پڑھنے والے معصوم بچوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے بجائے صرف سیاسی جلسوں اور احتجاجی مظاہروں کے لیے کیوں استعمال کیا جاتا ہے۔
فضل الرحمٰن کے شاہانہ طرزِ زندگی اسلام آباد کے جی سکس (G-6) جیسے مہنگے علاقے میں واقع پرتعیش بنگلے، اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ان کے ہر بھائی اور بیٹے کے الگ الگ پرتعیش محل نما گھروں پر بھی بڑے سوالات کھڑے ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور دیر کالونی حادثہ، گورنر کے پی کی ہدایت پر متاثرہ خاندانوں میں کروڑوں کے امدادی چیک تقسیم
بغیر کسی معلوم اور واضح کاروبار یا صنعت کے اسلام آباد سے لے کر مختلف شہروں تک پھیلی اربوں روپے کی جائیدادیں، لینڈ کروزرز کا طویل قافلہ اور شاہانہ اخراجات فضل الرحمٰن کے زہد و تقویٰ پر گہرا سوالیہ نشان ہیں۔
عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ پچھلے سال انہوں نے ملک کو کتنا ٹیکس ادا کیا اور ان کے بچوں کے پاس یہ بے تحاشا مال و دولت کہاں سے آئی۔
فضل الرحمٰن کا سیاسی سفر بھی اقربا پروری اور موروثی تسلط کی بدترین مثال پیش کرتا ہے۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے لے کر آج تک وہ پارٹی کی مرکزی قیادت پر قابض ہیں، جبکہ جماعت میں دیگر دیرینہ اور مخلص رہنماؤں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کرپشن، آمدن سے زائد اثاثے اور دوہرا معیار، فضل الرحمٰن کے مفاد پرستانہ کھیل پر عوام کا سخت ردِعمل
حیرت انگیز طور پر فضل الرحمٰن خود مرکزی قائد ان کا بھائی خیبر پختونخوا کا قائد اور سینیٹر، جبکہ بیٹا وفاقی حکومت میں وزیر اور ڈیجیٹل میڈیا کے نظام کو سنبھالے ہوئے ہے۔
جماعت کے تمام اہم سیاسی اور مالی مناصب کو ایک ہی خاندان تک محدود رکھنے پر اب یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا یہ کوئی سیاسی یا مذہبی جماعت ہے یا پھر ایک خاندانی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی۔
پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا کے غریب عوام کو اپنے سیاسی اور مالی مفادات کے لیے استعمال کرنے والے فضل الرحمٰن کی بلیک میلنگ اور مفاد پرستی کا پردہ اب فاش ہو چکا ہے۔
عوام اور قوم اب یہ حساب مانگ رہی ہے کہ مذہب اور مدارس کے نام پر اکٹھے کیے جانے والے فنڈز، مراعات اور سستے داموں الاٹ کی گئی زمینوں کے اصل حقدار کون ہیں اور ان کے شاہانہ جلسوں اور عیاشیوں کا حساب کب دیا جائے گا۔





