اسلام آباد: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے عوام کو شناختی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچانے اور رجسٹریشن کے عمل کو انتہائی آسان بنانے کے لیے جدید بائیو میٹرک ٹیکنالوجی سے لیس نئی ٹیبلٹ ڈیوائسز کے استعمال کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
اس انقلابی اقدام کا بنیادی مقصد شہریوں کو دفاتر کے چکروں اور طویل قطاروں سے نجات دلانا اور ضرورت کے مطابق مختلف علاقوں میں رجسٹریشن سرگرمیوں کو تیز تر بنانا ہے۔
نادرا حکام کے مطابق یہ جدید ٹیبلٹس مکمل طور پر پاکستان میں تیار کروائے گئے ہیں، جن میں نادرا کا مخصوص ”پاک آئی ڈی“ سافٹ ویئر نصب کیا گیا ہے۔
ان ڈیوائسز کے ذریعے نادرا افسران اب کسی بھی علاقے میں جا کر موقع پر ہی شہریوں کے فنگر پرنٹس، تصویر اور آئرس (آنکھوں کا سکین) کیپچر کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : صوبے میں ڈینگی کے وار جاری، متاثرہ اضلاع میں فوری اقدامات کا حکم
اس جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اب شناخت کے اندراج اور تصدیق کا عمل منٹوں میں ممکن ہو سکے گا۔
نئے نظام کے تحت بالخصوص ایسی یونین کونسلز، دور دراز علاقوں یا رش والے مقامات پر جہاں شہریوں کی بڑی تعداد موجود ہو، نادرا کے افسران کو ان ڈیوائسز کے ساتھ فوری روانہ کیا جائے گا۔
اس موبائل اور شہری مرکزیت پر مبنی سروس ڈلیوری سے نہ صرف روایتی مراکز پر رش کا دباؤ کم ہوگا بلکہ شہریوں کو دور دراز کا سفر کرنے اور طویل انتظار سے بھی بڑی راحت ملے گی۔





