صوبے میں ڈینگی کے وار جاری، متاثرہ اضلاع میں فوری اقدامات کا حکم

پشاور: خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے پھیلاؤ میں اضافے کے باعث صوبے بھر میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 3 ہزار 771 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ بیماری کے باعث دو اموات کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔ 

صورتحال میں کوہاٹ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بن کر سامنے آیا ہے، جہاں اب تک ڈینگی کے 2 ہزار 319 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

صوبے میں ڈینگی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں مشیر صحت نگار جوہر، سیکرٹری صحت اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

 اجلاس کے دوران حکام نے ڈینگی کی موجودہ صورتحال، اس کے پھیلاؤ کی وجوہات، انسدادِ ڈینگی ایکشن پلان اور صوبے میں جاری اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کوہاٹ صوبے کا سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے، جہاں ڈینگی کے 2 ہزار 319 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ضلع میں ڈینگی پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور اس حوالے سے ہونے والی پیشرفت سے انہیں مسلسل آگاہ رکھا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : فضل الرحمان کی سیاست کا سب سے بڑا راز فاش، ن لیگ پر الزام کیوں اور اصل نشانہ کون ہے؟

گورنر نے دیگر متاثرہ اضلاع میں بھی بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ڈینگی کے تدارک کے لیے ضلعی انتظامیہ کو درکار وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیے جائیں تاکہ انسدادی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

اجلاس میں حکام نے ڈینگی کے پھیلاؤ سے متعلق مختلف عوامل کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیاں، شہری آبادی میں بے ہنگم اضافہ، صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات اور بجلی کی لوڈشیڈنگ بیماری کے پھیلاؤ میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق ڈینگی کی روک تھام کے لیے ایک جامع ایکشن پلان مرتب کیا گیا ہے، جس کے تحت متعلقہ محکموں اور ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ بیماری سے متعلق معلومات کی بروقت فراہمی، کیسز کی رپورٹنگ اور نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں صورتحال پر مؤثر نظر رکھی جا سکے۔

اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور ڈینگی کے مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے صوبے بھر میں مجموعی طور پر 1 ہزار 666 بستروں پر مشتمل آئسولیشن وارڈز قائم کیے گئے ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ عوام کو ڈینگی سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنے کے لیے بھی مہم جاری ہے۔ اس موقع پر گورنر فیصل کریم کنڈی نے محکمہ اطلاعات کے تعاون سے عوامی آگہی مہم کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔

 انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا سمیت مختلف ذرائع ابلاغ کو بروئے کار لاتے ہوئے شہریوں تک ڈینگی سے بچاؤ کے پیغامات پہنچائے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں : متاثرہ اضلاع کے فنڈز پر اب کوئی ڈاکہ نہیں ڈال سکے گا، این ایف سی فنڈز کی الگ منتقلی کا فیصلہ

گورنر فیصل کریم کنڈی نے زور دیا کہ ڈینگی کی روک تھام کے لیے عوامی آگہی بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا۔

 انہوں نے ہدایت کی کہ شہریوں کو نہ صرف ڈینگی سے بچاؤ کے طریقوں سے آگاہ کیا جائے بلکہ مچھر کی افزائش روکنے کے لیے احتیاطی اقدامات کی اہمیت بھی اجاگر کی جائے۔

ماہرین کی تجویز کردہ عمومی احتیاطی تدابیر میں گھروں، گلیوں اور دیگر مقامات پر پانی جمع نہ ہونے دینا، پانی ذخیرہ کرنے والے برتنوں کو ڈھانپ کر رکھنا اور مچھروں کی افزائش کے ممکنہ مقامات کو ختم کرنا شامل ہے۔

صوبے میں ڈینگی کے 3 ہزار 771 کیسز اور دو اموات کی اطلاع کے بعد متاثرہ علاقوں میں انسدادی اقدامات، بروقت طبی سہولیات اور مؤثر عوامی آگہی مہم کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

Scroll to Top