تل ابیب سے آسٹریا جانے والے آسٹرین ایئرلائنز کے مسافر طیارے میں اس وقت شدید سراسیمگی پھیل گئی جب فضا میں 36 ہزار فٹ کی بلندی پر اچانک بم کی موجودگی کا سنسنی خیز الرٹ جاری کر دیا گیا۔ ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر پائلٹ نے فوری طور پر ایمرجنسی کوڈ ڈائل کرتے ہوئے طیارے کا رخ موڑا اور بلغاریہ کے صوفیہ ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کروائی۔
طیارے کی زمین پر آمد کے ساتھ ہی بلغاریائی سیکیورٹی فورسز کے بھاری نفاذ اور کمانڈوز نے جہاز کو مکمل طور پر اپنے حصار میں لے لیا۔ رپورٹ کے مطابق پرواز میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان یا دیگر ممالک کی نمائندگی کے لیے جانے والا ایک نوجوانوں کا اہم وفد بھی سوار تھا، جس کی وجہ سے یہ معاملہ مزید حساس نوعیت اختیار کر گیا۔
عملے کو فضا کے دوران ہی جہاز میں بارودی مواد یا کسی پراسرار شے کی موجودگی کی نامعلوم اطلاع ملی تھی، جس کے بعد ایوی ایشن پروٹوکول کے تحت فوری ردِعمل دیا گیا۔ تمام مسافروں کو بحفاظت منتقل کرنے کے بعد
فورسز اور بوم ڈسپوزل اسکواڈ نے جہاز، تمام سیٹوں اور سامان کی سکیننگ شروع کر دی۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں: مشرقِ وسطیٰ میں بڑی فوجی پیش رفت، مصر کا سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجیں بھیجنے کا حتمی فیصلہ
اگرچہ ابتدائی رات گئے تک کسی دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کا حتمی ثبوت نہیں مل سکا، تاہم حساس ادارے واقعے کو محض افواہ ماننے کے بجائے تمام تر زاویوں سے گہرائی میں جا کر تفتیش کر رہے ہیں۔





