مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ ترین علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر مصر نے برادر ملک سعودی عرب کی سلامتی اور استقرار کے دفاع کے لیے اپنی فوج مملکت میں تعینات کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد مصری افواج ایک مخصوص دفاعی مشن کے تحت فوری طور پر سعودی عرب میں کیمپنگ اور معاونت کے لیے روانہ کی جائیں گی۔
رپورٹ کے مطابق مصری ایوانِ نمائندگان کا ایک انتہائی اہم اور ہنگامی اجلاس میں صدر مملکت اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے سعودی عرب میں فوجی دستے بھیجنے سے متعلق حتمی تجویز اور سفارشات کا جائزہ لیا گیا۔
مصری رکنِ پارلیمنٹ مصطفیٰ بکری نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ صدرعبدالفتاح السیسی کی زیرِ صدارت انعقاد پذیر ہونے والے نیشنل ڈیفنس کونسل کے اعلیٰ سطح اجلاس کے بعد پارلیمان نے باضابطہ طور پر فوج کی سرحد پار تعیناتی اور اسے سونپے گئے دفاعی مشن کے تمام تر لائحہ عمل کی توثیق کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب کی کابینہ کا حوثیوں کے خلاف بڑا فیصلہ
مصطفیٰ بکری نے مزید واضح کیا کہ مصر نے ہر مشکل وقت میں عرب قومی سلامتی کے تحفظ اور اتحاد میں اپنا قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور وہ کبھی اپنے اس دیرینہ مقصد سے پیچھے نہیں ہٹا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ سعودی عرب کی سیکیورٹی اور سلامتی دراصل مصر کی اپنی قومی سلامتی کا لازمی اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہے، لہٰذا مملکت کے استحکام کو درپیش کوئی بھی ممکنہ خطرہ مصر کی اپنی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ تصور کیا جائے گا۔
اس تاریخی فیصلے کو خطے کی بحرانی صورتحال میں مصر اور سعودی عرب کے مابین قائم دفاعی پارٹنرشپ اور تزویراتی حلیف کا مضبوط ترین اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔





