پی ٹی آئی کے 13 سالہ اندھیرے یا موت کے کنویں: گورنر راج کا پہلا بڑا چھاپہ، اسکول سیل ،مالکان کی دوڑیں لگ گئیں!

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی گزشہ 13 سالہ تباہ کن اور نااہل دورِ حکومت نے تعلیمی نظام کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا، تاہم اب گورنر راج کے نفاذ کے بعد ضلعی انتظامیہ کی سنسنی خیز اور سخت کارروائیوں نے تمام پردے فاش کر دیے ہیں۔ صوبے میں معصوم بچوں اور اساتذہ کی زندگیوں کو داؤ پر لگانے والے اسکولوں کے خلاف بڑا اور فیصلہ کن ایکشن شروع ہو چکا ہے۔

ڈپٹی کمشنر صوابی نصر اللہ خان کی خصوصی ہدایات پر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر لاہور نصرت نے انسپکشن کمیٹی کے ہمراہ تحصیل لاہور کے متعدد اسکولوں پر اچانک چھاپے مارے۔ تحریک انصاف کی دہائیوں پر محیط غفلت اور مجرمانہ خاموشی کا پردہ چاک کرتے ہوئے وزٹ کے دوران کئی اسکولوں کی عمارتیں انتہائی خطرناک اور خستہ حال حالت میں پائی گئیں، جہاں کلاس رومز کی دیواریں اور چھتیں گہری دراڑیں کھا چکی تھیں اور کسی بھی وقت بڑے سانحے کا سبب بن سکتی تھیں۔

پی ٹی آئی دور میں تعلیم کے نام پر چلنے والے ان “موت کے کنوؤں” کا پول کھلتے ہی ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر نصرت نے موقع پر سخت کارروائی کرتے ہوئے خطرناک عمارتوں کے حامل متعدد اسکولوں کو فوری طور پر سیل کر دیا۔ اس جراتمندانہ اور بروقت  ایکشن سے علاقے کے اسکول مافیا اور غفلت کے ذمہ داروں میں شدید کھلبلی مچ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سانحہ پشاور کے بعد اسکولوں کی سیکیورٹی اور عمارتوں کا جائزہ لینے کا فیصلہ

موقع پر سخت احکامات جاری کرتے ہوئے انتظامیہ نے واضح کیا کہ پچھلی حکومت کی مجرمانہ سرپرستی کے برعکس اب بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، غیر محفوظ عمارتوں کو فوراً خالی کرا کر طلبہ کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے اور اس مافیا کے خلاف بلا امتیاز آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

Scroll to Top