پشاور شہر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، وجہ کیا بنی؟

خیبر پختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں 120 فیصد الاؤنس کی تجویز، سمری گورنر کو ارسال

پشاور:  خیبر پختونخوا پولیس کی کارکردگی اور آپریشنل صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور گزشتہ تین دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف سرحدوں اور عوام کی حفاظت کرنے والے اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک بڑا اور تاریخی قدم اٹھا لیا گیا ہے۔

 خیبر پختونخوا پولیس کے اہلکاروں کی تنخواہوں میں نمایاں اضافے اور دیگر حتمی ضروریات سے متعلق تیار کی گئی جامع سمری منظوری کے لیے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو ارسال کر دی گئی ہے۔

 تنخواہوں اور سیکیورٹی چیلنج الاؤنس میں زبردست تجاویز

گورنر فیصل کریم کنڈی کو بھیجی گئی سمری میں خیبر پختونخوا  پولیس کی سخت سیکیورٹی صورتحال اور فیلڈ ڈیوٹیز کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنج الاؤنس کی صورت میں تنخواہوں میں 120 فیصد تک کے اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

جنوبی اور ضم اضلاع: ان نازک اور حساس خطوں میں ڈیوٹی سرانجام دینے والے پولیس اہلکاروں کو بنیادی تنخواہ کا 120 فیصد الاؤنس دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

دیگر آباد اضلاع: صوبے کے دیگر تمام آباد اضلاع کے اہلکاروں کے لیے 100 فیصد الاؤنس کی تجویز شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں : عوام کی خدمت میں ہر وقت پیش پیش، پاک فوج کی جانب سے نوشہرہ کے لیے میجر مجید نواز شہید انڈر پاس کا عظیم تحفہ

ہزارہ ریجن:  ہزارہ ریجن کے پولیس اہلکاروں کو 75 فیصد سیکیورٹی چیلنج الاؤنس دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

سمری کے مطابق سیکیورٹی چیلنج الاؤنس کی فراہمی پر ماہانہ بنیادوں پر 5 ارب 15 کروڑ روپے سے زائد کے اضافی اخراجات آئیں گے، جو فرنٹیئر فورسز کے جذبے کو بلند رکھنے کے لیے انتہائی ضروری قرار دیے گئے ہیں۔

 جدید اسلحہ، ٹیکنالوجی اور بکتر بند گاڑیاں: اربوں روپے کے فنڈز طلب

سمری میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پختونخوا پولیس گزشتہ تین دہائیوں سے خطے میں دہشت گردی کے خلاف ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے اور فورس نے لازوال قربانیاں دی ہیں، لیکن بجٹ کی شدید کمی کے باعث فورس کو جدید نگرانی کے آلات، حفاظتی سامان اور جدید ترین اسلحے کی قلت کا سامنا ہے۔

پولیس کی آپریشنل اور جیو پولیٹیکل دفاعی صلاحیت کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لیے سمری میں 13 ارب 87 کروڑ روپے سے زائد کے اضافی خریدارانہ فنڈز کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مالی سال 2026-27 کی خریداریاں: آباد اضلاع میں جدید خریداری کی مد میں 11 ارب 16 کروڑ روپے جبکہ ضم شدھ اضلاع کی ضروریات کے لیے 3 ارب 35 کروڑ روپے سے زائد رقم جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : فتنۃ الہندوستان کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، گورنر خیبرپختونخوا اور ثمر ہارون بلور کا شہید میجر وجاہت وحید کو خراجِ عقیدت

مطلوبہ جدید آلات: سمری میں سب مشین گنز (SMGs)، جدید رائفلز، اعلیٰ معیار کی بلٹ پروف جیکٹس، بیلسٹک ہیلمٹس، ڈرون سسٹمز، تھرمل ویپن سائٹس، نائٹ ویژن دوربینیں، اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی اور جدید بکتر بند (Armored) گاڑیوں کی فوری خریداری کی واضح تجاویز دی گئی ہیں۔

 جاری ترقیاتی منصوبے اور اسکیمیں

صوبے بھر میں امن و امان کے پائیدار قیام، انفراسٹرکچر کی بہتری اور پولیس سٹیشنز کی جدید سازی کو تیز کرنے کے لیے سمری میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور مختلف فلاحی اسکیموں کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔

 ان تمام تر ترقیاتی اور انتظامی منصوبوں کی بلا تاخیر تکمیل کے لیے **12 ارب 22 کروڑ روپے** کے فنڈز فوری جاری کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

سمری میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیاں اور خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، تاہم دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم تنخواہوں اور الاؤنسز کے تفاوت کو ختم کرنا اور فورس کو جدید ترین جنگی و انتظامی سہولیات سے لیس کرنا وقت کی اہم ترین قومی ضرورت ہے۔

Scroll to Top