سٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس ڈرامہ، حکومت کی 13سالہ کارکردگی صفر ، آفتاب شیرپائو نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا

صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں تھی، عوام لاوارث تھے، آفتاب شیرپاؤپختونخوا کی سابقہ حکومت پر برس پڑے

حمد اللہ
ایبٹ آباد:  قومی وطن پارٹی کے سربراہ، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ کئی سالوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، جس کے پیچھے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابقہ حکومت کا غلط بیانیہ تھا۔

 ایبٹ آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ سکیورٹی اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کو کامیاب بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا خود ان مذاکرات کی کامیابی میں بڑی رکاوٹ بنے رہے۔

آفتاب احمد شیرپاؤ نے صوبے کی انتظامی صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کا کوئی ذمہ دار نہیں رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : گورنر راج کے بعد وزیراعظم کا پہلا دورۂ پشاور، اہم اعلانات اور ایجنڈے کی تفصیلات سامنے آ گئی

 یہی وجہ ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ ایک ناگزیر مجبوری بن چکا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ اب سب سے پہلی ترجیح عوام کا اعتماد بحال کرنا ہونی چاہیے اور گورنر راج کے تحت پیدا شدہ بے یقینی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی میں کمی لانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک عوام کو حقیقی ریلیف نہیں ملے گا، تب تک گورنر راج کے مقاصد پورے نہیں ہو سکتے۔

اپنے بارے میں گردش کرنے والی افواہوں پر وضاحت کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کے گورنر خیبرپختونخوا بننے سے متعلق سوشل میڈیا پر جاری خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

 انہوں نے صوبے کو بحرانوں سے نکالنے کا حل بتاتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی پائیدار ترقی اور امن و امان کی بحالی کے لیے تمام سیاسی و انتظامی اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں : پیدائش کے فوراً بعد نومولود کا شاہانہ انداز میں آرام، ویڈیو وائرل

معاشی صورت حال اور وفاق کے رویے پر بات کرتے ہوئے آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے عام آدمی پر مہنگائی کا بوجھ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ انہوں نے گلہ کیا کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کو اس مشکل گھڑی میں بالکل تنہا چھوڑ دیا ہے۔

 انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ صوبے کے سنگین مسائل، امن و امان کی خراب صورت حال اور معاشی مشکلات کے حل کے لیے اپنا مؤثر اور ذمہ دارانہ کردار فوری طور پر ادا کرے۔

Scroll to Top