امریکی صدر کے ایران اور تیل سے متعلق بڑے دعوے

امریکی کسانوں کے لیے بڑا ریلیف، ٹرمپ کا 8 ارب ڈالر امداد کا اعلان

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فصلوں کی کٹائی کے موجودہ اہم ترین موسم میں ڈیزل کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے اور زرعی شعبے کو سہارا دینے کے لیے امریکی کسانوں کے لیے 8 ارب ڈالر کی ایک خطیر مالی امداد کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

 صدر ٹرمپ کی جانب سے کسانوں کے لیے اس بڑی راحت کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انہوں نے ایندھن کے بحران پر قابو پانے کے لیے روس سے ڈیزل کی خریداری کا معاہدہ کیا ہے۔

 عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے ریاست کنساس میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات کی مہم کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) کسانوں کی مدد کے لیے ایک خصوصی اور نیا ’ہارویسٹ فیول ریلیف پروگرام‘ شروع کرنے جا رہا ہے۔

اس پروگرام کا بنیادی مقصد فصلوں کی کٹائی اور منڈیوں تک نقل و حمل کے دوران ڈیزل کے بھاری اخراجات کے بوجھ کو کم کرنا اور کسانوں کو براہ راست مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : 50 لاکھ گھروں کے دعویداروں کی اپنی سیاست تاریخ کے ردی دان کی نذر ہو گئی

صدارتی اعلان کے فوراً بعد امریکی محکمہ زراعت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ اس نئے پیکیج کے تحت کسانوں کے لیے 8 ارب ڈالر مختص کیے جائیں گے۔

یہ رقم فصلوں کی کٹائی کے رواں سیزن میں کسانوں کو یکمشت بنیادوں پر رقوم کی ادائیگی کی صورت میں دی جائے گی تاکہ انہیں مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتی میں عارضی خلل اور پیداوری لاگت میں اچانک اضافے کے منفی اثرات سے فوری تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

 محکمے نے مزید واضح کیا ہے کہ رواں زرعی سال کے دوران کسانوں کو ہونے والے ممکنہ مالی نقصانات کے ایک حصے کا ازالہ کرنے کے لیے ایک شفاف اور یکساں فارمولے کے تحت تمام مستحق کسانوں میں متناسب مالی امداد تقسیم کی جائے گی۔

اس پورے امدادی پروگرام اور 8 ارب ڈالر کی ادائیگیوں کے نظام کو چلانے کی ذمہ داری امریکی محکمہ زراعت کی فارمنگ سروس ایجنسی کو سونپی گئی ہے۔

تجزیہ کاروں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے صدر ٹرمپ کی جانب سے مالی مراعات اور ریلیف کے جو سلسلہ وار وعدے کیے جا رہے ہیں، یہ 8 ارب ڈالر کا امدادی پیکیج بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : معدنیات پر صرف 3 دن تک من گھڑت کہانیاں بنائی گئیں، حقیقت عوام کے سامنے آ گئی

 ان انتخابات میں امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول داؤ پر لگا ہوا ہے جہاں فی الوقت ریپبلکن پارٹی کو معمولی اکثریت حاصل ہے۔

موجودہ امریکی انتظامیہ اور صدر ٹرمپ کو اس وقت ملک میں مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی، عام امریکیوں کے لیے روزمرہ کے اخراجات میں اضافے اور بالخصوص ایران کے خلاف امریکا و اسرائیل کی جنگی صورتحال کے باعث ایندھن اور عالمی مارکیٹ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے صدر کی عوامی مقبولیت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

کسانوں کو ڈیزل پر دی جانے والی اس بڑی مالی رعایت کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ زرعی طبقے کی ناراضگی دور کرنے اور انتخابات سے قبل معاشی ریلیف کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

Scroll to Top