13 سالہ پٹواری راج اور رشوت کے اڈے تہس نہس، بدعنوان مافیا کے لیے صوبے میں کوئی جگہ نہیں

حمداللہ خان
ایبٹ آباد : کمشنر ہزارہ ڈویژن شاہ رخ علی کی زیرِ صدارت ہزارہ ڈویژن کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کا اہم تعارفی و انتظامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈویژن بھر کی انتظامی صورتحال، عوامی مسائل، سرکاری محکموں کی کارکردگی، صفائی ستھرائی، سرکاری خدمات کی فراہمی، فیلڈ وزٹس اور بدعنوانی کے خاتمے سمیت اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے شرکت کی اور اپنے اپنے علاقوں میں جاری اقدامات اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بریفنگ دی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر ہزارہ شاہ رخ علی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ہزارہ ڈویژن میں بدعنوانی، غفلت اور عوام کو تنگ کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سرکاری انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری عوام کو سہولیات فراہم کرنا اور ان کے مسائل کا بروقت ازالہ کرنا ہے۔

 تمام ڈپٹی کمشنرز اپنے اضلاع میں انتظامی معاملات کی مؤثر نگرانی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ شہریوں کو اپنے جائز کاموں کے لیے غیر ضروری مشکلات، تاخیر یا انتظار کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یہ بھی پڑھیں : ترقی رکے گی نہیں، جاری رہے گی، کمشنر ہزارہ کا زمینداروں کے لیے بڑا اعلان

کمشنر ہزارہ نے تمام افسران و اہلکاروں کو سرکاری اوقاتِ کار کی پابندی، دفاتر میں حاضری اور عوام کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے کی سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی درخواست کو غیر ضروری التوا میں نہ رکھا جائے۔

خدمات کی فراہمی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے ڈومیسائل کے اجرا سمیت تمام عمومی اور اہم سرکاری امور بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی تاکہ شہریوں کو بار بار دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔

 اجلاس میں ڈویژن بھر میں صفائی مہم کو منظم اور مستقل بنیادوں پر فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے لیے ٹی ایم ایز، واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنیوں اور کینٹونمنٹ بورڈز کے درمیان باہمی رابطہ کاری مضبوط کرنے پر زور دیا گیا۔

 کمشنر شاہ رخ علی نے افسران کو دفاتر تک محدود رہنے کے بجائے ہسپتالوں، سکولوں، بنیادی مراکزِ صحت اور دیگر اداروں کے اچانک فیلڈ وزٹس کی ہدایت کی تاکہ عوامی سہولیات اور عملے کی حاضری کا موقع پر جائزہ لیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : 50 لاکھ گھروں کے دعویداروں کی اپنی سیاست تاریخ کے ردی دان کی نذر ہو گئی

ریونیو دفاتر بالخصوص پٹواریوں کے نظام کی سخت نگرانی کا حکم دیتے ہوئے کمشنر ہزارہ نے واضح کیا کہ زمین اور انتقالات سے متعلق معاملات میں شفافیت برقرار رکھی جائے اور بدعنوانی پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائی ہوگی۔

انہوں نے سرکاری اقدامات اور فیلڈ وزٹس کو سوشل میڈیا پر اجاگر کرنے اور اضلاع کی مقامی ضروریات کے مطابق نئے فلاحی منصوبے متعارف کرانے کی بھی ہدایت کی۔

 علاوہ ازیں اضلاع کے درمیان رابطہ کاری، بہترین انتظامی تجربات کے تبادلے اور صوبائی محکموں کے مسائل کو اعلیٰ سطح پر فوری اٹھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

 اجلاس کے اختتام پر کمشنر ہزارہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ انتظامیہ کی کارکردگی کا اصل معیار عوام کو حقیقی ریلیف کی فراہمی اور شفاف و جواب دہ حکومت کا قیام ہے۔

Scroll to Top