ترقی رکے گی نہیں، جاری رہے گی، کمشنر ہزارہ کا زمینداروں کے لیے بڑا اعلان

حمد اللہ
ایبٹ آباد: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے ساتھ ہی صوبائی انتظامیہ اور وفاق کے نمائندوں کا گراؤنڈ پر متحرک انداز اور انتظامی سست روی کا خاتمہ واضح دکھائی دینے لگا ہے۔

 صوبے میں گورننس اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے انتظامی افسران کی جانب سے دن رات محنت اور ہنگامی بنیادوں پر تحرک جاری ہے۔

اسی سلسلے میں کمشنر ہزارہ ڈویژن شاہ رخ علی نے ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد حمید اللہ خان کے ہمراہ ڈسٹرکٹ ایگریکلچر آفس اور ماڈل فارم سروسز سینٹر کا مفصل اور ہنگامی دورہ کیا۔

 اس دورے کے دوران ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر ایگریکلچر الطاف الرحمن نے ادارے کی مجموعی کارکردگی، جاری زرعی منصوبوں اور کسانوں کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیل سے بریفنگ دی۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی کسانوں کے لیے بڑا ریلیف، ٹرمپ کا 8 ارب ڈالر امداد کا اعلان

کمشنر ہزارہ نے اپنے دورے کے دوران زرعی دفاتر، سوائل ٹیسٹنگ لیبارٹری (مٹی کے معائنے کی تجربہ گاہ)، اسٹورز، زرعی مشینری اور جدید بیجوں کی تیاری کے مختلف شعبوں کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ انہوں نے تمام شعبوں کو چاک و چوبند رکھنے اور عوام کے لیے سہولیات کا معیار فوری طور پر بہتر بنانے کے سخت احکامات جاری کیے۔

گورنر راج کے تحت صوبے کو خودکفالت اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر ہزارہ شاہ رخ علی نے ہدایات جاری کیں کہ زرعی اصلاحات کا نفاذ  زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنایا جائے اور کسانوں کو بلا تاخیر اور معیار کے مطابق سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں۔

زیتون کی پیداوار پر خصوصی فوکس ایبٹ آباد میں جنگلی زیتون کی قلم کاری اور زیتون کی پیداوار میں ریکارڈ اضافے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیں۔

تیل نکالنے کی جدید مشینری  زیتون کے تیل کی تیاری اور پروسیسنگ کے لیے تمام ضروری اور جدید مشینری کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : 50 لاکھ گھروں کے دعویداروں کی اپنی سیاست تاریخ کے ردی دان کی نذر ہو گئی

عام زمینداروں کو مستفید کرنا پھل دار درختوں، اعلیٰ کوالٹی کی سبزیوں اور فصلوں کی تیاری، نگہداشت اور ان کی عام کسانوں و زمینداروں تک آسانی سے فراہمی کا نظام فعال بنایا جائے۔

دورے کے اختتام پر کمشنر ہزارہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ صوبے میں انتظامی تحرک اور بیوروکریسی کی شب و روز کی محنت کا مقصد صرف اور صرف سرکاری اداروں کی کارکردگی کو نچلی سطح تک بحال کرنا اور عوام کو بلا تاخیر بنیادی و معیاری سہولیات فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ زراعت کی ترقی سے ہی عام زمیندار کی معاشی حالت بدلے گی اور خطے میں غذائی خودکفالت حاصل کی جا سکے گی۔

Scroll to Top