پشاور: خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے انتظامی و اصلاحاتی ثمرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے تحت صوبائی المحکموں میں بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف بڑے پیمانے پر لمحہ بہ لمحہ یک مشت کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں ایک بڑی پیش رفت محکمہ ہاؤسنگ میں سامنے آئی ہے جہاں خیبرپختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی سے مبینہ جعلی اور بوگس ورک چارج (گھوسٹ) ملازمین کو فوری طور پر ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ اتھارٹی میں ان جعلی ملازمین کے نام پر ہر ماہ قومی خزانے سے ایک کروڑ روپے سے زائد کی رقم تنخواہوں کی مد میں غیر قانونی طور پر جاری کی جا رہی تھی، جس پر مسلسل شدید شکایات موصول ہو رہی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں : معدنی وسائل کے معاملے پر مفروضوں کی سیاست نہیں چلے گی، فضل الرحمان ثبوت لائیں، بیرسٹر دانیال چوہدری
چھان بین پر یہ سنسنی خیز حقیقت سامنے آئی کہ اتھارٹی کے ایڈمنسٹریشن اور فنانس سیکشنز کے پاس ان نام نہاد ملازمین کی بھرتیوں، تقرری کے احکامات اور مجاز اتھارٹی کی منظوری کا کوئی مستند دستاویزی ریکارڈ موجود نہیں تھا اور نہ ہی دونوں شعبے اس بے ضابطگی پر کوئی تسلی بخش اور قانونی جواب دے سکے۔
جس کے بعد ایڈوائزری کونسل کے مشیر برائے ہاؤسنگ آصف رفیق آفریدی اور نو تعنیات شدہ سیکرٹری ہاؤسنگ طاہر اورکزئی نے فوری اور سخت ایکشن لیتے ہوئے تمام غیر قانونی ورک چارج ملازمین کو فارغ کرنے کی ہدایات جاری کر دیں۔
صوبائی انتظامیہ نے اس مالی بدعنوانی کی تہہ تک پہنچنے اور ذمہ دار عناصر کا تعین کرنے کے لیے معاملے کی اعلیٰ سطحی شفاف انکوائری کرانے کا بھی حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔





