اسلام آباد میں دو روزہ بین الاقوامی نان پرولفریشن کانفرنس 2026 کا آغاز،ماہرین کی شرکت

 وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اسٹریٹجک وژن انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام دو روزہ بین الاقوامی اسلام آباد نان پرولفریشن کانفرنس 2026 کا دوسرا ایڈیشن شروع ہو گیا ہے جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے ممتاز جوہری و دفاعی ماہرین اور محققین شرکت کر رہے ہیں۔

 کانفرنس کے افتتاح پر انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر نعیم سالک نے تمام ملکی اور غیر ملکی مہمانوں کا پرجوش استقبال کیا، جبکہ ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ناصر حفیظ نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد اور اہم خدوخال پر روشنی ڈالی۔

افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سرفراز ستار نے متنبہ کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کی تیز رفتار پیشرفت بڑے اور جدید ترین جوہری ہتھیاروں کی تیاری کو فروغ دے رہی ہے، جس سے عالمی سطح پر اسلحہ کنٹرول اور تزویراتی استحکام کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں خطرات کی نوعیت بدل چکی ہے اور ماضی کے برعکس اب سب سے بڑا خطرہ غیر ریاستی عناصر کے بجائے بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان کشمکش اور بین الریاستی تنازعات ہیں۔ 

انہوں نے جنوبی ایشیا کو شدید جوہری خطرات سے دوچار خطہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں بڑھتا ہوا انتہا پسند ہندوتوا نظریہ اور اکھنڈ بھارت کا تصور علاقائی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے، جبکہ عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے عدم استعمال کی روایت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔

اسی نشست سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے مشیر برائے ترقی لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد احمد قدوائی نے خطے میں تزویراتی توازن اور پاکستان کے دفاعی موقف کا احاطہ کیا۔

 انہوں نے مئی 2025 کے پاک بھارت تنازع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران نے پاکستان کی فل اسپیکٹرم ڈیٹرنس پالیسی کی افادیت اور کشیدگی کو محدود رکھنے میں روایتی و جوہری صلاحیت کے کردار کو عالمی سطح پر ثابت کیا ہے۔

جنرل (ر) خالد قدوائی نے سپری (SIPRI) کی سالانہ رپورٹ 2026 کا حوالہ دیتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ بھارت نے اپنی جوہری آبدوز پر تقریباً 12 جوہری وارہیڈز تعینات کر رکھے ہیں اور وہ ان کی دفاعی گشت میں مصروف ہے۔ 

انہوں نے بھارتی آبدوز سے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کی پیشگی اطلاع نہ دینے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرزعمل سے بھارت کے پہلے ایٹمی پہل نہ کرنے کے دعوے پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں، جس سے غلط فہمیوں اور جوہری تصادم کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی اور خطے میں دفاعی توازن برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : شمالی کوریا کے حکمران کم جونگ اُن کی موت اور کوما کی خبریں: حقیقت سامنے آ گئی

اس دو روزہ کانفرنس میں کل سات خصوصی نشستیں شامل ہیں جن میں جنوبی ایشیا میں دفاعی توازن، جوہری عدم پھیلاؤ اور اسلحہ کنٹرول کو درپیش نئے چیلنجز پر جامع پالیسی سفارشات مرتب کی جائیں گی جبکہ کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل (ر) زبیر محمود حیات خطاب کریں گے۔

Scroll to Top