محمد اعجاز آفریدی
خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت نے صحت کارڈ پلس کے اخراجات کم کرنے کے لیے ایسی تجاویز تیار کی تھیں جن پر عمل درآمد کی صورت میں مریضوں کو اپنے علاج کے اخراجات کا 20 فیصد حصہ خود ادا کرنا پڑ سکتا تھا۔
حکومت نے ان مجوزہ تبدیلیوں کے ذریعے 9.3 ارب روپے تک بچت کا تخمینہ لگایا تھا لیکن اس بچت کی قیمت عام شہریوں کو اپنے علاج کے لیے جیب سے رقم خرچ کرکے چکانا پڑ سکتی تھی۔
چیف منسٹر سیکرٹریٹ کے 25 ستمبر 2026 کو جاری کردہ اجلاس کے منٹس کے مطابق 10 ستمبر کو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت صحت کارڈ پلس کے اخراجات میں کمی، مالی استحکام اور انتظامی اصلاحات کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزیر صحت، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ، سیکرٹری صحت، سیکرٹری خزانہ، صحت کارڈ پلس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں سامنے آنے والی تجاویز نے صحت کارڈ پلس کے مستقبل اور غریب مریضوں کے مالی تحفظ سے متعلق اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک طرف حکومت اربوں روپے کی بچت کا منصوبہ بنا رہی تھی، تو دوسری طرف علاج کے اخراجات کا کچھ حصہ مریضوں پر منتقل کرنے سمیت ایسی تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا تھا جن سے صحت کارڈ کے تحت ملنے والی سہولیات متاثر ہو سکتی تھیں۔
اجلاس میں نجی ہسپتالوں میں منتخب علاج کے علاوہ مریضوں سے 20 فیصد کو-پیمنٹ (Co-payment) وصول کرنے کی تجویز زیر غور آئی۔ اس مجوزہ پالیسی کے تحت اگر کسی مریض کے علاج پر ایک لاکھ روپے خرچ ہوتے تو اسے 20 ہزار روپے اپنی جیب سے ادا کرنا پڑ سکتے تھے، جبکہ باقی رقم پروگرام کے مقررہ قواعد کے مطابق ادا کی جاتی۔
صحت کارڈ پلس کا بنیادی مقصد شہریوں کو مہنگے علاج کے اخراجات سے تحفظ فراہم کرنا ہے، لیکن مریضوں سے علاج کی لاگت کا ایک حصہ وصول کرنے کی تجویز نے اس سوال کو جنم دیا کہ مالی دباؤ کم کرنے کے لیے عام شہریوں کو کس حد تک قربانی دینا پڑتی۔
غریب اور متوسط طبقے کے لیے علاج کے اخراجات پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ ایسے میں اگر صحت کارڈ کے تحت بھی مریضوں کو ہزاروں روپے اپنی جیب سے ادا کرنا پڑتے تو ان خاندانوں پر مزید مالی دباؤ پڑ سکتا تھا جو علاج کے لیے مکمل طور پر سرکاری سہولت پر انحصار کرتے ہیں۔
اجلاس میں منتخب مہنگے اور غیر ہنگامی یعنی نان ایمرجنسی علاج صرف سرکاری ہسپتالوں تک محدود کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ اس کے علاوہ کم پیچیدگی والے بعض علاج اور منتخب طبی خدمات کو صحت کارڈ پلس سے خارج کرنے، سرکاری ہسپتالوں کو ادائیگیوں میں 10 سے 15 فیصد تک نظرثانی اور بعض نجی ہسپتالوں کو پروگرام سے نکالنے کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔
9.3 ارب روپے کی بچت کا منصوبہ، مگر قیمت کون ادا کرتا؟
صحت کارڈ پلس کے اخراجات میں کمی کے لیے مختلف تجاویز کے ذریعے مجموعی طور پر 9.3 ارب روپے تک بچت کا تخمینہ پیش کیا گیا تھا۔ ان تجاویز میں منتخب مہنگے اور غیر ہنگامی علاج کو محدود کرنے سے تقریباً 1.7 ارب روپے اور کم پیچیدگی والے علاج کو پروگرام سے خارج کرنے سے تقریباً 37 کروڑ 90 لاکھ روپے کی بچت کا تخمینہ شامل تھا۔
یہ رقم حکومت کی جانب سے اخراجات کم کرنے کے لیے لگایا گیا تخمینہ تھا، نہ کہ عوام سے وصول کی جانے والی رقم۔ تاہم مریضوں سے 20 فیصد پیمنٹ لینے، بعض علاج کو محدود کرنے اور طبی خدمات کی کوریج میں تبدیلیوں کی تجاویز نے اس منصوبے کے عوامی اثرات پر سوالات اٹھا دیے۔
اجلاس میں سرکاری ملازمین کے لیے برونز، سلور اور گولڈ کی سطحوں پر مشتمل مخصوص صحت پیکجز متعارف کرانے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔ بنیادی پیکج کے لیے ملازمین کی شراکت پر مبنی نظام کی تجویز تھی، جبکہ اہلیت، کوریج، ملازمین کے حصے اور مالی اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جانا تھا۔
اس کے علاوہ چوبیس گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کام کرنے والے بنیادی مراکز صحت، دیہی صحت مراکز اور کیٹیگری ڈی ہسپتالوں کو صحت کارڈ پلس میں شامل کرنے، مہنگے علاج کی کوریج بڑھانے اور سروس ریٹس میں مرحلہ وار اضافے کی تجاویز بھی اجلاس کا حصہ تھیں۔
یہ تمام نکات ظاہر کرتے ہیں کہ اجلاس میں صحت کارڈ پلس کے مالی اور انتظامی ڈھانچے میں متعدد تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا تھا۔ تاہم ان تجاویز میں سے کون سی تبدیلی حتمی طور پر منظور ہوئی، اس کا تعین متعلقہ سرکاری فیصلوں سے ہی کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت اور مجوزہ اصلاحات کے درمیان سوالات
سرکاری منٹس کے مطابق وزیراعلیٰ نے مجوزہ اقدامات کے تکنیکی اور مالی جائزے، بچت کے تخمینوں اور مستفیدین پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ حکام پر مشتمل کمیٹی بنانے کی ہدایت بھی کی تھی۔ جہاں وزیراعلیٰ یا صوبائی کابینہ کی باقاعدہ منظوری ضروری تھی، وہاں علیحدہ سمری پیش کرنے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : انتشاری ٹولےکا ایک اور بڑا اسکینڈل : آڈٹ رپورٹ نےخیبرپختونخوا میں معدنیات کے شعبے میں اربوں روپے کی کرپشن بے نقاب کردی
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کی لانگ مارچ کے لیے سٹریٹ موومنٹ میں مصروفیت کے باعث مجوزہ تبدیلیوں کی سمری پر دستخط نہ ہو سکے اور 11 اکتوبر کو گورنر راج کے نفاذ سے صحت کارڈ پلس میں یہ تبدیلیاں نہ ہو سکیں۔





