خیبرپختونخوا میں قانون کی عملداری اور گورنر ہاؤس کے متحرک انتظامی و سیکیورٹی ویژن کے تحت صوبے کو جرائم اور قانون شکن عناصر سے پاک کرنے کا مشن تیزی سے جاری ہے۔
پی ٹی آئی کے گزشتہ 13 سالہ تاریک اور ناکام دورِ اقتدارمیں جہاں ایک طرف کھلی چھوٹ دے کر ڈالا کلچر، بدمعاشی اور اسلحے کی نمائش کو پروان چڑھایا گیا وہیں موجودہ فعال اور عوام دوست انتظامی ڈھانچے نے اقتدار سنبھالتے ہی ان تمام ناسوروں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنا شروع کر دیا ہے۔
اس تبدیلی کا منہ بولتا ثبوت ضلع صوابی میں سامنے آیا ہے جہاں ڈی پی او صوابی وقاص رفیق کی قیادت میں پولیس نے واضح کر دیا ہے کہ اب صوبے میں قانون شکنی کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔
تھانہ کالوخان پولیس نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران ویگو ڈالے میں سوار ہو کر اسلحے کی نمائش کرنے والے اور خود کو جعلی سرکاری اہلکار یا سیکیورٹی گارڈ ظاہر کرنے والے تین افراد کو دھر دبوچا۔
ڈی ایس پی سرکل رزڑ شکیل خان کی نگرانی میں ایس ایچ او ہارون خان اور ان کی ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو قابو کیا۔
گرفتار ہونے والوں میں حسنین (سکنہ کالوخان)، احمد منیر اور ثناء اللہ (ساکنان کراچی) شامل ہیں، جو SG کمپنی کی کالی وردیاں پہن کر کھلے عام قانون کا مذاق اڑا رہے تھے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلا رہے تھے۔
تلاشی کے دوران ان کے پاس سے کوئی بھی قانونی دستاویز یا سروس کارڈ برآمد نہیں ہوا، البتہ ان کے قبضے سے .223 بور رائفل، 9 ایم ایم پستول اور کارتوس برآمد کر لیے گئے۔
ملزمان کے خلاف تھانہ کالوخان میں فوری طور پر مقدمہ درج کر کے قانونی شکنجہ کس دیا گیا ہے۔
اس شاندار کارروائی پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ڈی پی او صوابی وقاص رفیق نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ضلع صوابی میں قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے اور سکیورٹی الاؤنس کی سمری گورنر کو ارسال
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دورِ بدحالی میں جن عناصر کو قانون کی دھجیاں اڑانے کی کھلی چھٹی دی گئی تھی، اب موجودہ بہتر انتظامی نظام میں ان کے لیے زمین تنگ کر دی گئی ہے۔
اسلحے کی نمائش، جعلی حیثیت ظاہر کرنے اور شہریوں کے امن میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف بلا امتیاز سخت ترین قانونی کارروائی کا عمل مسلسل جاری رہے گا۔





