خیبر پختونخوا میں ایم پی او آرڈیننس کے اختیارات ڈپٹی کمشنرز کو منتقل

پشاور:خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور انتظامی تاخیر کو کم کرنے کے لیے گورنر فیصل کریم کنڈی نے ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے، ڈپٹی کمشنرز (DCs) کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) آرڈیننس کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض کر دیے ہیں۔

محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے اعلامیے کے مطابق گورنر نے MPO آرڈیننس 1960 کے سیکشن 3، ذیلی سیکشن ایک کے تحت یہ اختیارات تفویض کیے ہیں۔

 اس اقدام کا مقصد ضلعی سطح پر بروقت اور مؤثر احتیاطی کارروائی کو یقینی بنانا ہے، جس سے انتظامی تاخیر کم ہو گی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہم آہنگی مضبوط ہو گی۔

اعلامیے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی کے اعلان کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ اس کے تحت، ضلعی پولیس افسر کی جانب سے کیس موصول ہونے پر، متعلقہ ڈپٹی کمشنر فوری کارروائی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں : قدرتی وسائل اور وفاقی فنڈز کے باوجود پختونخوا صنعتی تباہی اور بدامنی کا شکار، شہریوں نے انتشاری ٹولے کو آڑے ہاتھوں لے لیا

گورنر فیصل کریم کنڈی نے زور دیا ہے کہ ڈی سیز ان اختیارات کا استعمال آئین اور قانون کے مطابق کریں، اور ان کا کسی صورت غلط استعمال نہ ہو۔

 انہوں نے مزید کہا کہ عوامی امن، تحفظ، اور سلامتی ان کی اولین ترجیح ہے۔ اس فیصلے سے، ضلعی سطح پر MPO مقدمات پر تیز رفتار کارروائی ممکن ہو گی، جس سے 2025 کا ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کو حاصل اختیارات کا نوٹیفکیشن غیر مؤثر ہو جائے گا۔

گورنر کو امید ہے کہ تمام ڈپٹی کمشنرز ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کریں گے۔

Scroll to Top