پشاور: خیبر پختونخوا میں 13 سالہ طویل دورِ اقتدار کے باوجود صنعتی تباہی، بدامنی اور معاشی بدحالی پر صوبے کے شہریوں کا پیمانہ سبر لبریز ہو گیا ہے۔
شہریوں نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی ناکام پالیسیوں اور سنگین لاپروائی پر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شدید آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
دوسری جانب صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد انتظامیہ متحرک ہو گئی ہے اور پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ میں تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز اور بھرپور گرینڈ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کی ناکام پالیسیاں اور صنعتی تباہی
خیبر پختونخوا کے شہریوں اور کاروباری طبقے نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی وسائل سے مالامال ہونے اور وفاق کی جانب سے فنڈز کی باقاعدہ فراہمی کے باوجود پی ٹی آئی حکومت صوبے کو دانستہ طور پر ترقی سے محروم رکھنے کی ذمہ دار ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں کالج کیڈر کے 58 اسسٹنٹ پروفیسرز کو ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدوں پر ترقی دے دی گئی
شہریوں کا کہنا تھا کہ 13 سال حکمرانی کرنے کے باوجود صوبے میں نہ صرف صنعتی ترقی کا مکمل فقدان ہے بلکہ ہر طرف بدامنی اور بے یقینی کی لہر پھیلی ہوئی ہے۔
تاجروں اور شہریوں کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کے ظالمانہ ٹیکسوں، غلط معاشی پالیسیوں اور سنگین لاپروائی نے چلتے ہوئے کاروبار بھی تباہ کر دیے، جس کے باعث سرمایہ کار اپنی چالو صنعتیں بند کرنے پر مجبور ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتوں کی تباہی، کاروباری بحران اور صوبے کی موجودہ بدحالی پی ٹی آئی کے بدترین طرزِ حکمرانی کا واضح ثبوت ہے۔
تجاوزات کے خلاف صوبہ گیر گرینڈ آپریشن
اسی اثنا میں گورنر راج کے نفاذ کے فوری بعد خیبر پختونخوا حکومت اور انتظامیہ نے صوبے کی خوبصورتی اور روانی بحال کرنے کے لیے سڑکوں اور بازاروں کو تجاوزات سے پاک کرنے کی مہم تیز کر دی ہے۔
پشاور کے مشہور شیر پاؤ بازار میں کامیاب کارروائی کے بعد اب چارسدہ اور نوشہرہ کے مختلف علاقوں میں بھی تجاوزات کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخواکے اسکولوں کے نام پر سرکاری خزانے کو ساڑھے 37 کروڑ کا چونا، تحقیقات کا حکم
ضلاعی انتظامیہ، ٹاؤن انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی مشترکہ نگرانی میں جاری اس گرینڈ آپریشن کے دوران سڑکوں، فٹ پاتھوں اور عوامی بازاروں کے اطراف قائم غیر قانونی تعمیرات اور پکے و کچے تجاوزات کو بھاری مشینری کے ذریعے مسمار کر دیا گیا ہے۔
انتظامیہ کا عزم اور شہریوں سے اپیل
انتظامی حکام کے مطابق اس آپریشن کا بنیادی مقصد عوامی گزرگاہوں کی بحالی، سڑکوں کی حدود کو واگزار کرانا اور شہروں میں ٹریفک کی روانی کو مکمل طور پر بہتر بنانا ہے تاکہ عام شہریوں کو روزمرہ آمدورفت میں درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ تجاوزات کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور آپریشن کے بعد غیر قانونی تعمیرات کے دوبارہ قیام کو روکنے کے لیے سخت قانونی و انتظامی اقدامات کیے جائیں گے۔
اس کے ساتھ ہی انتظامیہ نے شہریوں اور تاجر برادری سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں، سڑکوں و فٹ پاتھوں پر تجاوزات قائم کرنے سے گریز کریں اور شہروں کی بہتری کے لیے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔





