پشاور: ربیع سیزن 2026-27 کے لیے گندم کی امدادی قیمت 4,500 روپے فی 40 کلوگرام تجویز کر دی گئی ہے، جبکہ کسانوں سے زبردستی گندم خریدنے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ گندم کی حتمی قیمت کا تعین صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعد وزیراعظم کریں گے۔
اس حوالے سے کمیٹی آن ویٹ مینجمنٹ کے پہلے اجلاس میں ربیع سیزن 2026-27 کے لیے گندم کی مجوزہ قیمت 4,200 سے 4,500 روپے فی 40 کلوگرام کے درمیان رکھنے کی سفارش کی گئی۔
اجلاس میں کسانوں کے مفادات کے تحفظ، گندم کی خریداری کے نظام اور ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت مجوزہ امدادی قیمت سے زیادہ ہوئی تو کسانوں کو سرکاری مقرر کردہ قیمت پر گندم فروخت کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، بلکہ انہیں اپنی پیداوار اوپن مارکیٹ میں رائج نرخوں کے مطابق فروخت کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : ایل آر ایچ میں لوٹ مار کی بدترین داستان، ڈاکٹر نوشیروان برکی کے سائے میں 43 ماہ کے دوران 2 کروڑ 18 لاکھ 82 ہزار 356 روپے ہضم کرنے والا مافیا بے نقاب
صوبوں کے لیے گندم کے اسٹریٹجک ذخائر کے اہداف مقرر
ملک میں غذائی تحفظ برقرار رکھنے اور گندم کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے صوبائی سطح پر اسٹریٹجک ذخائر کے اہداف بھی مقرر کیے گئے ہیں۔
ان اہداف کے مطابق پنجاب کے لیے 25 لاکھ میٹرک ٹن، سندھ کے لیے 10 لاکھ میٹرک ٹن، خیبر پختونخوا کے لیے 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن اور بلوچستان کے لیے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم کے ذخائر تجویز کیے گئے ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ گندم کے اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھنے اور خریداری کے عمل کے لیے بینکنگ سیکٹر سے مجموعی طور پر 525 ارب روپے کی مالی معاونت درکار ہوگی۔ اس ضمن میں گندم کی خریداری اور ذخیرہ کرنے کے لیے مالی وسائل کی دستیابی کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
گندم کی خریداری اور تجارت میں نجی شعبے کو سہولتیں دینے کا فیصلہ
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ گندم کی خریداری، ذخیرہ اندوزی اور تجارت میں نجی شعبے کو مزید سہولتیں فراہم کی جائیں گی تاکہ مارکیٹ میں مسابقت کو فروغ ملے اور سپلائی کا نظام مؤثر بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور میں رہائشی مکانوں میں قائم نجی اسکولوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
مزید برآں، ذخیرہ اندوزی کے خلاف قوانین پر عمل درآمد اس انداز میں کرنے پر زور دیا گیا کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ساتھ جائز کاروبار اور گندم کی بین الصوبائی نقل و حمل متاثر نہ ہو۔
اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ کو روکنے کے لیے 4,500 روپے فی من کی حد مقرر کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ اس حوالے سے حتمی فیصلے اور قیمتوں کے تعین کے لیے متعلقہ حکام کی مشاورت اہم ہوگی۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ فصل اپریل 2027 تک ملک میں گندم کی بلاتعطل فراہمی برقرار رکھنے اور قیمتوں میں استحکام یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
مجوزہ پالیسی کا مقصد کسانوں کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنا، نجی شعبے کی شمولیت بڑھانا اور ملک کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے گندم کے وافر ذخائر برقرار رکھنا ہے۔





