پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 12ویں ایڈیشن کے لیے بگل بج چکا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی کی زیر صدارت پی ایس ایل گورننگ کونسل کا ایک اہم ورچوئل اجلاس منعقد ہوا، جس میں نئے سیزن کی تاریخوں، پلیئرز آکشن، ٹیموں کی مالی ادائیگیوں اور لیگ کے مالیاتی نظام سے متعلق کئی اہم اور سنسنی خیز فیصلے کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں طے پایا ہے کہ پی ایس ایل 2027 کا باقاعدہ آغاز 18 مارچ سے ہوگا جبکہ ٹورنامنٹ کا مکمل شیڈول پی ایس ایل کرکٹ کمیٹی باہمی مشاورت سے جلد جاری کرے گی۔
تاہم رواں سیزن میں ایک بڑا چیلنج یہ سامنے آیا ہے کہ 3 سے 11 اپریل تک پاکستان میں جنوبی ایشین گیمز کا انعقاد ہونا ہے۔ اس ہائی پروفائل ایونٹ کے باعث پی ایس ایل کے میچز روایتی طور پر لاہور اور راولپنڈی میں نہیں رکھے جائیں گے تاکہ دونوں بڑے کھیلوں کے مقابلوں کے درمیان انتظامی طور پر کوئی ٹکراؤ نہ ہو۔
کھلاڑیوں کے چناؤ کے حوالے سے اجلاس میں طویل بحث کی گئی جس میں پلیئرز ری ٹینشن اور براہ راست کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں شامل کرنے کے طریقہ کار پر تجاویز لی گئیں۔
اجلاس میں پلیئرز آکشن 23 جنوری کو کرانے کی تجویز پیش کی گئی ہے تاہم آکشن کا انعقاد ملک کے اندر ہوگا یا بیرونِ ملک، اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔
گورننگ کونسل نے مالیاتی امور پر سخت ڈیڈ لائنز دیتے ہوئے نان ریکوری ادائیگیوں کے لیے 31 اکتوبر کی آخری تاریخ مقرر کی ہے۔
دوسری جانب ٹیم مالکان کے لیے ایک بڑی خوشخبری یہ سامنے آئی ہے کہ اجلاس میں تاخیر سے ہونے والی ادائیگیوں پر عائد کی جانے والی اضافی رقم (جرمانوں) کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا اطلاق آئندہ سیزن سے ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : ہیری بروک کی ڈبل سنچری بھی کام نہ آسکی، سری لنکا نے انگلینڈ کو ہرا دیا
پی ایس ایل کے مالیاتی ماڈل میں بھی ممکنہ تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ لیگ کے انتظامی امور کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
اسلام آباد یونائیٹڈ کے مالک علی نقوی نے اس اجلاس کے بعد اپنے ردعمل میں اسے ایک “مث مثبت اجلاس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں فرنچائز اور لیگ کے مالیاتی و انتظامی امور کو آگے بڑھانے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔





