نئی آٹو پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سیلز ٹیکس میں بڑی رعایت کی تجویز سامنے آگئی جس کے تحت الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح ایک فیصد مقرر کرنے اور اس رعایت کے نتیجے میں ممکنہ ریونیو کی کمی متبادل ذرائع سے پوری کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ پالیسی کے تحت 75 ہزار ڈالر تک مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ایک فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح ایک فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
مجوزہ آٹو پالیسی میں پیٹرول اور دیگر اندرونی احتراق والے انجن کی گاڑیوں پر آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
اس کے تحت ایک ہزار ایک سے دو ہزار سی سی تک کی گاڑیوں پر دو فیصد، جبکہ دو ہزار ایک سی سی یا اس سے زیادہ انجن کی حامل گاڑیوں پر 10 فیصد لیوی عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
اس اقدام کا اطلاق مقامی طور پر تیار ہونے والی اور درآمد کی جانے والی پیٹرول انجن گاڑیوں پر ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 10 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
اس کے علاوہ نئی آٹو پالیسی کے تحت پیٹرول، ڈیزل اور دیگر اندرونی احتراق والے انجن کی گاڑیوں پر کاربن لیوی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے۔
مجوزہ ٹیکس اقدامات کے ذریعے ریونیو حاصل کرنے کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں پر کاربن لیوی کی مد میں 25 ارب روپے، جبکہ مجموعی لیوی سے 37 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
اسی طرح آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی کے ذریعے بسوں اور ٹرکوں سے 45 ارب روپے جمع کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کو حتمی شکل دینے کے لیے فنانس بل میں ترمیم بھی کی جا سکتی ہے تاہم مجوزہ ٹیکس اقدامات اور الیکٹرک گاڑیوں پر رعایت سے متعلق حتمی فیصلہ آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہوگا۔





