جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے 7 برس قبل بھیجے گئے 26 سوالات میں سے کسی ایک کا بھی جواب دینے میں ناکام رہے ہیں، جس سے یہ بات عیاں ہو گئی ہے وہ ’صادق و امین‘نہیں ہیں جو ’کرپشن ‘ کے الزامات پر خود کو قومی اداروں کے سامنے جوابدہ ہی نہیں سمجھتے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) خیبر پختونخوا نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور ان کے خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کے سلسلے میں آمدن سے زیادہ اثاثوں کی انکوائری کا آغاز کیا تھا۔
اس سلسلے میں ’نیب‘ کی جانب سے انہیں 26 سوالات پر مشتمل ایک تفصیلی سوالنامہ ارسال کیا گیا تھا تاکہ ان کے اور ان کے خاندان کے پاس موجود جائیدادوں کے ذرائع آمدن کی تصدیق کی جا سکے۔
تاہم، 7 سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود مولانا فضل الرحمان ان پوچھے گئے سوالات میں سے ایک کا بھی جواب فراہم نہیں کر سکے ہیں۔
اراضی کی خریداری اور فنڈز کے ذرائع پر اٹھتے سوالات
یہ بھی پڑھیں : پانچ روز مسلسل کمی کے بعد سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ 1400 روپے مہنگا ہوگیا
نیب کے سوالنامے میں شامل مخصوص سوالات میں سے سوال نمبر 6 میں مولانا فضل الرحمان سے پوچھا گیا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں 64 کنال اراضی کی خریداری کے لیے رقم کہاں سے آئی؟ اس سوال کا بنیادی مقصد زمین کی خرید و فروخت میں استعمال ہونے والے فنڈز کے قانونی ذرائع کی نشاندہی کرنا تھا۔
اسی طرح سوال نمبر 7 میں ان کے بیٹے کے نام پر خریدی گئی 2 کنال 15 مرلہ زرعی اراضی سے متعلق ذرائع آمدن اور پیسوں کی منتقلی کے ثبوت طلب کیے گئے تھے۔
نیب ذرائع کے مطابق فضل الرحمان ان دونوں اہم ترین سوالات کے جوابات اور متعلقہ ریکارڈ فراہم کرنے میں تا حال ناکام رہے ہیں۔
سیاسی دفاع اور قانونی شواہد کا عدم توازن
مولانا فضل الرحمان اور ان کی قانونی ٹیم نے ان الزامات اور نیب انکوائری کو ہمیشہ ’سیاسی انتقام‘ قرار دے کر مسترد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : آرمی چیف اینڈ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے سرکاری دورے پر پہنچ گئے
لیکن ذرائع کے مطابق دراصل حقیقت اس کے برعکس ہے، نیب حکام کا اصرار ہے کہ تاحال ان کے سامنے ایسے تسلی بخش جوابات یا مستند دستاویزات پیش نہیں کی جا سکیں جو بیورو کے خدشات کو دور کر سکیں۔
ملک کے سیاسی منظرنامے میں جب اعلیٰ سطح کے رہنماؤں پر مالیاتی عدم شفافیت کے الزامات سامنے آتے ہیں، تو یہ معاملہ محض قانونی بحث تک محدود نہیں رہتا بلکہ عوامی اعتماد کو بھی متاثر کرتا ہے۔
اگرچہ سیاسی جماعتیں نیب کی کارروائیوں کو وقت فوقتاً انتقامی سیاست کا شاخسانہ قرار دیتی رہی ہیں، لیکن قانونی تقاضوں کے مطابق دستاویزی ثبوت پیش کرنا ہی ایسے شکوک و شبہات کے خاتمے کا واحد راستہ ہوتا ہے۔
کسی بھی معاملے کا 7 سال تک لٹکے رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کے بڑے سیاستدان صادق و امین نہیں ہیں اور وہ ایک ادارے کو جسے انہوں نے خود بنایا ہے اس کے آگے جواب دینے سے کتراتے ہیں۔





