شادی کی ویڈیوز سے بلیک میلنگ کا خطرہ، کے پی پولیس کا شہریوں کو انتباہ!

 خیبر پختونخوا پولیس نے ملک بھر میں سردیوں کی شادیوں کا سیزن شروع ہوتے ہی شہریوں اور خاندانوں کے لیے ایک اہم سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں شادی بیاہ کی تقریبات کے دوران فوٹو گرافی اور ویڈیو گرافی کرتے وقت شدید احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ 

پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ تقریبات کی نجی اور ذاتی فوٹیج غلط ہاتھوں میں جانے کی صورت میں اسے سائبر بلیک میلنگ، آن لائن ہراساں کرنے اور بلیک میلنگ کے مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پولیس کی جانب سے جاری کردہ انتباہی مراسلے میں کہا گیا ہے کہ شادی کی تقریبات کے دوران بنائی گئی ذاتی تصاویر اور ویڈیوز پر جرائم پیشہ عناصر کی نظریں ہو سکتی ہیں، جو خاندانوں کو ڈرانے، دھمکانے اور ان سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے اس مواد کا استحصال کر سکتے ہیں۔

حکام نے خصوصاً سائبر مجرمان کے جدید حربوں کی نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملزمان جدید ڈیپ فیک ٹیکنالوجی، ترمیم شدہ تصاویر اور جعل سازی کے ذریعے من گھڑت ویڈیوز تیار کر کے متاثرہ افراد کو گمراہ کن مواد کے ذریعے بلیک میل کرنے کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ایڈوائزری میں مزید بتایا گیا ہے کہ بلیک میلرز نجی مواد کو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل کرنے یا آن لائن گردش دینے کی دھمکیاں دیتے ہیں جس سے متاثرہ خاندانوں کو نہ صرف شدید ذہنی و جذباتی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ ان کی معاشرتی شہرت کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : یومِ سیاہِ کشمیر: صدراور وزیراعظم کا پیغام میں کشمیریوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار

پولیس نے تمام خاندانوں، دلہا اور دلہن کے لواحقین اور منتظمین سے زور دے کر اپیل کی ہے کہ وہ شادیوں کے موقع پر فوٹو اور ویڈیو شوٹس کا اہتمام کرتے وقت پیشگی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

اس کے علاوہ اپنے تمام نجی اور ذاتی ڈیٹا کو سنبھالنے اور محفوظ جگہ پر سٹور کرنے کے عمل کو یقینی بنائیں تاکہ اس نجی مواد کو کسی بھی ممکنہ غلط استعمال یا ناخوشگوار واقعے سے بچایا جا سکے۔

Scroll to Top