پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کی ممبر صوبائی اسمبلی نثار باز خان نے صوبائی حکومت کی پختون عوام سے لاتعلقی اور بے رُخی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے محدود وسائل کو ہمیشہ دیگر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، جیسے تخت اسلام آباد کی لڑائی یا لاہور بار کی احتجاجی تحریک، جبکہ پختونخوا کی ترقی اور عوام کے حقوق کو یکسر نظرانداز کیا گیا ہے۔
نثار باز خان نے مزید کہا کہ گزشتہ بارہ سالوں سے صوبے پر حکمرانی کرنے والی جماعت نے 33 پشتون جرنلسٹ شہداء کی قربانیوں کو فراموش کر دیا ہے، جنہوں نے صحافت کے مقدس پیشے کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
ان شہداء میں مکرم خان عاطف، نور حکیم خان، ایوب خٹک، اسلم درانی، اسفندیار خان، نصر اللہ خان، پرویز خان مومند، عبدالوہاب، مصری خان، انور صالح، عظمت علی بنگش، اور دیگر شامل ہیں، جنہوں نے قبائلی اضلاع میں آزادی صحافت اور حقیقت پر مبنی رپورٹنگ کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دی۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں صحافیوں پر غیر اعلانیہ پابندی ہے اور وہاں پر آزادانہ رپورٹنگ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ “ہم سیاسی کارکن اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ قبائلی اضلاع میں جنوین رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو کس طرح شہید کیا گیا ہے۔ نثار باز خان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ صوبے کے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ ان صحافیوں کی قربانیوں کو بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے نثار باز خان نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ پختونخوا کے عوام کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا ہے، اور صوبے میں کرپشن کا بازار گرم ہے۔ “روزانہ نئے نئے کرپشن کے سکینڈلز سامنے آ رہے ہیں، لیکن عوامی مسائل اور ان کی قربانیاں مسلسل نظرانداز کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بدامنی، بیروزگاری، اور مہنگائی سے عوام تنگ آ چکے ہیں، اور نوجوانوں کو روزگار کی تلاش میں انسانی سمگلروں کے ہاتھوں یورپ جانے کے لیے سمندروں میں ڈوبنا پڑ رہا ہے، مگر حکومت کو اس کا کوئی احساس نہیں۔
یہ بھی پڑھیں لاپتہ افراد کیس، پشاور ہائی کورٹ کا وفاقی و صوبائی حکومت کو نوٹس
نثار باز خان نے یہ بھی کہا کہ صوبے کی یونیورسٹیوں میں جرنلزم کے شعبے کو ایک ایسے صحافی کے نام سے منسوب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا اس صوبے سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس نے یہاں کی عوام کے لیے کوئی قابل ذکر خدمات سر انجام دی ہیں۔ “کیا یہ پختون عوام کے جذبات کی بے حرمتی نہیں؟ کیا یہ ظلم کی نئی داستان نہیں؟
انھوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پختونخوا کی صحافتی برادری اور پختون عوام اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور اپنی آواز بلند کریں تاکہ صوبے کے عوام کے ساتھ مزید ناانصافی اور مذاق بند ہو سکے۔
یہ بیان نثار باز خان نے صوبے کی موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے دیا، جس میں انہوں نے عوامی مسائل کو حل کرنے اور صوبے کی ترقی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔





