پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کی پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کسی قسم کے مذاکرات ہو رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ صرف رابطے بحال ہوئے تھے، مذاکرات نہیں ہوئے اور ڈیل کی باتیں بے بنیاد ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ طلال چوہدری کا طالبان کی واپسی کے حوالے سے دیا گیا بیان حقائق کے برعکس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے نرغے میں ہے اور ایسے الزامات لگانے کا وقت نہیں ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس کے بجائے دہشتگردی کو روکنے کے لیے اپنی توجہ مرکوز کی جائے۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ ریکارڈ کا حصہ ہے کہ طالبان آبادکاری کے فیصلے جولائی 2022 کے بعد ہوئے تھے اور طلال چوہدری کا یہ غیر ذمہ دارانہ بیان کہ دہشتگردوں نے پی ٹی آئی کو نشانہ نہیں بنایا، ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے پاکستان میں دہشتگردی کی بھرپور مذمت کی اور کہا کہ کسی بھی پاکستانی شہری کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں پس پردہ کسی سے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، بیرسٹر گوہر
پی ٹی آئی چیئرمین نے مزید وضاحت کی کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے مذاکرات کا آغاز نہیں ہوا اور 24 نومبر سے قبل صرف رابطے کی بحالی ہوئی تھی، کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کسی بھی قسم کے حتمی مذاکرات کا آغاز نہیں ہوا اور اس حوالے سے چلنے والی افواہیں بے بنیاد ہیں۔





