پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما اور سابق رکن صوبائی اسمبلی ثمرہارون بلور نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کٹھ پتلی وزیراعلیٰ ہیں
کیونکہ آج بھی صوبائی معاملات میں عمران خان کی بہن علیمہ خان اور ماضی میں اہلیہ بشری بی بی متحرک رہی ہیں۔
پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما اے این پی ثمرہارون بلور کا کہنا تھا کہ موروثی سیاست کے خلاف بات کرنیوالے عمران خان کا خاندان آج انکی سیاسی جماعت پر قابض ہیں اور بیرسٹر گوہر خان ایک مفلوج کردار بن چکے ہیں۔
انکے مطابق بشری بی بی کے کہنے پر عثمان بزدار کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنایا گیا اور آج عمران خان کی بہن علیمہ خان منرل اینڈ مائنز ایکٹ کو عمران خان کی رہائی سے مشروط کرنے کا حکم دے رہی ہے جو کہ دراصل حکومت اور ریاست کو بلیک میل کرنے کی کوشش ہے۔
یہ بھی پڑھیں کچھ یوٹیوبرز جو کچھ کررہے ہیں وہ دنیا کا کوئی معاشرہ برداشت نہیں کرسکتا، ثمر ہارون بلور
اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی خواتین کی گرفتاری پر گفتگو کرتے ہوئے ثمرہارون بلور کا کہنا تھا کہ یہ ایک افسوسناک عمل تھا لیکن اگر علیمہ خان سیاسی معاملات میں حصہ لے گی تو جیلیں اور حراست پھر سیاست کا حصہ ہیں۔ علیمہ خان نے ہی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی کال دی تھی جبکہ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور دیگر قیادت اس معاملے پر لاعلم نظر آرہے تھے۔
اڈیالہ جیل احتجاج سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ثمرہارون بلور کا کہنا تھا کہ ایم این ایز، ایم پی ایز اور وزراء کی پوری فوج کے ہوتے ہوئے درجنوں افراد کی شرکت ظاہر کرتی ہے کہ احتجاج کیلئے کوئی تیار نہیں تھا یہاں تک کہ عمران خان کی بہنوں کو بھی اکیلا چھوڑا گیا اور صرف سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا آخر تک انکے ساتھ رہے۔ پی ٹی آئی کی پوری قیادت انہیں اکیلا چھوڑ کر خیبرپختونخوا ہاؤس چلی گئی۔
عمران خان کے خاندان کے افراد کی سیاست میں کردار پر گفتگو کرتے ہوئے ثمرہارون بلور کا کہنا تھا کہ انکے ایک کزن ڈاکٹر نوشیروان برکی نے خیبرپختونخوا کے پورے نظام کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور ایم ٹی آئی قانون کے ذریعے پورا نظام تباہ کردیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے دورہ مردان پر تنقید کرتے ہوئے ثمرہارون بلور نے کہا کہ اگر پرانے منصوبے ہٹائے جائیں تو پی ٹی آئی کے ساتھ کچھ نہیں بچتا، آج جس منصوبے کا افتتاح کیا گیا یہ دراصل عوامی نیشنل پارٹی کا شروع کردہ منصوبہ تھا جس کا سنگ بنیاد 2011ء میں رکھا گیا، 2014 تک اس منصوبے کو مکمل ہونا تھا لیکن پی ٹی آئی کی دو حکومتوں میں یہ ایک منصوبہ بھی مکمل نہ کیا جاسکا۔
یہ بھی پڑھیں پی ٹی آئی حکومت کیخلاف تحریک چلانے کے قابل نہیں ، شیر افضل مروت نے بالآخر واضح کردیا
ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو شہید سمیت دیگر شہداء نے اس قوم کی خدمت کی اور انہی کی خاطر جانوں کی قربانیاں دیں لیکن بدقسمتی سے پی ٹی آئی اس ہسپتال کا نام بھی نہیں لے رہی جو دراصل شہید بے نظیر بھٹو ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال مردان ہے۔ یہ لوگ ارباب نیاز اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرکے عمران خان کا نام رکھ سکتے ہیں لیکن دیگر ناموں کی مخالفت کرتے ہیں۔





