سیاسی جماعتوں کو سکول کلاس روم کی طرح نہیں چلایا جاسکتا ،بانی پی ٹی آئی نے الزام تراشی کا کھیل کھیلنے کی بجائے اتحاد کی ضرورت پر زوردیا
تفصیلات کے مطابق عمران خان نے سینئر پارٹی رہنمائوں پارٹی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم کی جانب سے تنقید پر ناراضی کا اظہار کیا ، منگل کو بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے وکیل سلمان صفدر کے توسط سے اپنے تحفظات سلمان اکرم کو پہنچائے ،بتایا گیا ہے کہ عمران خان نے یہ سلمان اکرم کو یہ پیغام دیا ہے کہسیاسی جماعتوں کو سکول کلاس روم کی طرح نہیں چلایا جاسکتا ،بانی پی ٹی آئی نے الزام تراشی کا کھیل کھیلنے کی بجائے اتحاد کی ضرورت پر زوردیا۔
یہ تنازع اسوقت پیدا ہوا جب اڈیالہ جیل کی انتظامیہ نے کپتان کی بہن اور فیملی کے دیگر افراد کو عمران خان سے ملنے سے روک دیا لیکن پانچ وکلا کو ملاقات کی اجازت دی گئی ۔
اسوقت سلمان اکرم کو خود بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تھی سلمان اکرم نے بعد میں عوامی سطح پر اس اقدام پر تنقید کی اور کہاکہ انتظامیہ کے منظور نظر لوگوں کو ملاقات کی اجازت دی گئی ۔
اس بیان پر پارٹی چیئرمین نے سخت ردعمل کا اظہار بھی کیا اور سلمان اکرم کو یاد دلایا کہ پارٹی نے ایسے حالات میں کبھی عمران خان سے ملاقات کے بائیکاٹ پر راضی نہیں ہوئی ۔
منگل کو جیل میں ہوئی ملاقات کے دوران پارٹی کے حساس امور پر بھی تبادلہ خیال کیاگیا ،امریکہ میں مقیم پارٹی رہنما اور بلاگر کے بارے میں عمران خان نے بیرسٹر گوہر کو مشورہ دیا کہ انہیں پارٹی کی سیاسی اور کور کمیٹیوں سے باضابط طورپر ہٹانے کیلئے یہ مناسب وقت نہیں ، تاہم بانی پی ٹی آئی عمران خان نے یہ یدایت کی کہ انہیں صرف کمیٹی کے اجلاسوں میں مدعو نہ کیاجائے ۔





