کوہاٹ۔ خیبر پختونخوا حکومت نے رَکھ ٹوپی اور رَکھ سُبان کے علاقوں میں غیر قانونی سونے کی کان کنی کے خلاف بڑی اور فیصلہ کن کارروائی کی ہے۔
اس آپریشن میں محکمہ جنگلات، پولیس، مقامی انتظامیہ اور محکمہ معدنیات نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ کارروائی کے دوران 11 مقامات پر چھاپے مارے گئے، جن کے نتیجے میں 36 مقدمات درج کیے گئے اور 4 افراد کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
محکمہ جنگلات کے مطابق کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں غیر قانونی کان کنی میں استعمال ہونے والا سامان ضبط کیا گیا، جن میں 4 پک اپ گاڑیاں، 7 موٹر سائیکلیں، 61 جنریٹرز، 17 فیول ڈرم، 11 بیٹریاں، 7 خیمے، 15 پائپ اور دیگر آلات شامل تھے۔ اس کے علاوہ کارروائی کے دوران 112 ایکسکیویٹرز، 80 جنریٹرز، 17 فیول ڈرم، 20 خیمے اور ایک ٹریکٹر ناکارہ یا تباہ شدہ حالت میں پائے گئے۔
محکمہ جنگلات کے مطابق 17 مقدمات کو کمپاؤنڈ کرتے ہوئے 6 لاکھ 85 ہزار 400 روپے جرمانے اور ہرجانے کی مد میں وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں صرف ایک وقتی اقدام نہیں بلکہ غیر قانونی کان کنی کی مکمل روک تھام کے لیے جامع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت منرلز ایسوسی ایشن کا مشاورتی اجلاس
اس حکمت عملی کے تحت حکومت نے مرکزی مقام پر مشترکہ چیک پوسٹ قائم کی ہے، جہاں پانچ مستقل جنگلات گارڈز تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر قانونی مشینری اور افراد کی دوبارہ آمد پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ علاقے میں باقاعدہ گشت کے لیے اضافی فیلڈ اسٹاف بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔
مزید برآں، لیز ہولڈرز کی مدد سے بارڈر پِلرز نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ علاقے کی حد بندی کو واضح رکھا جا سکے، اور موثر نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے جا چکے ہیں۔





